سال نو
اب رات ڈھل رہی ہے کوئی دو کا وقت ہے آنکھوں میں نیند جھول رہی ہے ابھی تلک لیکن میں سال نو کے لئے جاگتا رہوں امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے بیٹھا ہوں خامشی کی نواؤں کو چھیڑ کر اپنے غموں سے آج بھی فرصت نہیں مجھے پلکوں پہ آج بھی تو لرزتے ہیں یہ دیے لیکن انہیں غموں سے نیا آستاں بنا وجہ ...