قومی زبان

سال نو

اب رات ڈھل رہی ہے کوئی دو کا وقت ہے آنکھوں میں نیند جھول رہی ہے ابھی تلک لیکن میں سال نو کے لئے جاگتا رہوں امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے بیٹھا ہوں خامشی کی نواؤں کو چھیڑ کر اپنے غموں سے آج بھی فرصت نہیں مجھے پلکوں پہ آج بھی تو لرزتے ہیں یہ دیے لیکن انہیں غموں سے نیا آستاں بنا وجہ ...

مزید پڑھیے

شرابی

یہ مے کدہ ہے ترا اور میں شرابی ہوں سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہے سرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے دل و دماغ میں اک روشنی سی در آئی ہر ایک گھونٹ پہ کچھ زندگی کے راز کھلے محیط ہو گئی کون و مکاں کی گیرائی مگر یہ جام کے اندر بھی کیسی تاریکی بہت ...

مزید پڑھیے

شب فراق اچانک خیال آیا مجھے

شب فراق اچانک خیال آیا مجھے کہ میں چراغ نہ تھا اس نے کیوں جلایا مجھے کہاں ملا میں تجھے یہ سوال بعد کا ہے تو پہلے یاد تو کر کس جگہ گنوایا مجھے مجھے شبہ سا ہوا اس کی بے نیازی سے میں خود بنا ہوں خدا نے نہیں بنایا مجھے ملا بھی مجھ کو بچھڑ کر کہیں چلا بھی گیا اور اپنا نام بھی اس نے ...

مزید پڑھیے

آزار مرے دل کا دل آزار نہ ہو جائے

آزار مرے دل کا دل آزار نہ ہو جائے جو کرب نہاں ہے وہ نمودار نہ ہو جائے آواز بھی دیتی ہے کہ اٹھ جاگ میرے لعل ڈرتی بھی ہے بچہ کہیں بیدار نہ ہو جائے جب تک میں پہنچتا ہوں کڑی دھوپ میں چل کر دیوار کا سایہ پس دیوار نہ ہو جائے پردہ نہ سرک جائے کہیں اے دل بے تاب وہ پردہ نشیں اور پر اسرار ...

مزید پڑھیے

جان سے کیسے جایا جاتا ہے

جان سے کیسے جایا جاتا ہے یہ ہنر کیا سکھایا جاتا ہے بول کر بولیاں پرندوں کی ان کو گھیرے میں لایا جاتا ہے بعض وعدے کیے نہیں جاتے پھر بھی ان کو نبھایا جاتا ہے میں نہ جاؤں کہیں تو پھر دیکھوں کس طرح میرا سایا جاتا ہے صبح کے بعد بھی جو روشن ہوں ان دیوں کو بجھایا جاتا ہے

مزید پڑھیے

مدت سے کوئی ان کی تحریر نہیں ملتی

مدت سے کوئی ان کی تحریر نہیں ملتی کچھ دل کے بہلنے کی تدبیر نہیں ملتی ہر اک کو نہیں ہوتا عرفان محبت کا ہر اک کو محبت کی جاگیر نہیں ملتی بچوں کو تو اس طرح جلتے نہیں دیکھا تھا تاریخ میں کچھ ایسی تحریر نہیں ملتی پنجاب کو دیکھو تو اک آگ کا دریا ہے کشمیر میں جنت کی تصویر نہیں ملتی اس ...

مزید پڑھیے

وہ روٹھتا ہے کبھی دل دکھا بھی دیتا ہے

وہ روٹھتا ہے کبھی دل دکھا بھی دیتا ہے میں گر پڑوں تو مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے وہ میری راہ میں پتھر کی طرح رہتا ہے وہ میری راہ سے پتھر ہٹا بھی دیتا ہے بہت خلوص جھلکتا ہے طنز میں اس کے وہ مجھ پہ طنز کے نشتر چلا بھی دیتا ہے میں خود کو بھول نہ جاؤں بھٹک نہ جاؤں کہیں وہ مجھ کو آئنہ لا کر ...

مزید پڑھیے

تیر برسے کبھی خنجر آئے

تیر برسے کبھی خنجر آئے یہ مقامات بھی اکثر آئے شہر میں آگ لگی ہے اپنے جو بھی آئے وہ سنبھل کر آئے پھر تباہی کی طرف ہے دنیا پھر ضرورت ہے پیمبر آئے وہ تو رہزن کے بھی رہزن نکلے ہم تو سمجھے تھے کہ رہبر آئے شہر میں جب کوئی ہنگامہ ہوا لوگ کچھ بھیس بدل کر آئے آپ چپ رہے کے بھلے بن ...

مزید پڑھیے

اس کی نظروں میں اب دھواں ہوں میں

اس کی نظروں میں اب دھواں ہوں میں اب زمیں ہوں نہ آسماں ہوں میں نا مکمل سی داستاں ہوں میں دل ناکام کی زباں ہوں میں لوگ ارمان جن کو کہتے ہیں ان چراغوں کا ہی دھواں ہوں میں کیا ہوا وہ جو مجھ سے کہتا تھا تیری دنیا ترا جہاں ہوں میں حد نہیں عالم تصور کی کیا بتاؤں کہاں کہاں ہوں میں جو ...

مزید پڑھیے

جھرنوں کے درمیاں سے گزرنے لگی ہے شام

جھرنوں کے درمیاں سے گزرنے لگی ہے شام بھیگی ہوئی فضا سے نکھرنے لگی ہے شام کمرے میں بد گمان جو رکھا تھا آئینہ ہاتھوں میں اس کو لے کے سنورنے لگی ہے شام اب صبح گل فشاں کا زمانہ قریب ہے صحن چمن میں آ کے ٹھہرنے لگی ہے شام سونے نہ دے گی چین سے پھر رات بھر مجھے آنکھوں میں دھیرے دھیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5140 سے 6203