قومی زبان

اک تمنا میں گرفتار تھے ہم بھی تم بھی

اک تمنا میں گرفتار تھے ہم بھی تم بھی ساری دنیا کے گنہ گار تھے ہم بھی تم بھی دل کشی دیکھ کے چڑھتے ہوئے دریاؤں کی ڈوبنے کے لیے تیار تھے ہم بھی تم بھی بے سبب دونوں میں ہر ایک کو دلچسپی تھی اور ہر ایک سے بیزار تھے ہم بھی تم بھی کامیاب ایسے کہاں اپنے مخالف ہوتے مستقل ان کے مددگار تھے ...

مزید پڑھیے

ہر اک رنج و غم سے سبک دوش ہو جا

ہر اک رنج و غم سے سبک دوش ہو جا اسے یاد کر اور مدہوش ہو جا نظر اس کی چاہے تو نظریں جھکا لے ہے کچھ عرض کرنا تو خاموش ہو جا سکوں کے لئے بے سکوں دل کو مت کر پریشانیوں سے ہم آغوش ہو جا نکل پارسائی کے خطروں سے باہر تو مے نوش ہے تو بلانوش ہو جا ہے تشہیر کا سب سے اچھا یہ نسخہ اچانک کسی ...

مزید پڑھیے

ان سے بھی کہاں میری حمایت میں ہلا سر

ان سے بھی کہاں میری حمایت میں ہلا سر کہتے تھے جو ہر بات پہ حاضر ہے مرا سر ہاں یہ ہے کہ آہستہ کلامی کا ہوں مجرم خاموش مزاجی تو ہے الزام سراسر جس روز سے آیا ہے یہ قاتل کی نظر میں اس روز سے جھکنے کی ادا بھول گیا سر غیرت کے مقابل تھی ضرورت بھی ہوس بھی یہ معرکہ مشکل تھا مگر ہم نے کیا ...

مزید پڑھیے

زمین زادیاں

پھوار سی برس رہی گھٹا کی نرمیوں تلے فسوں طرازیٔ فضا کے سر میں سر ملا کے گا رہی زمین زادیاں نمو کی آنچ میں نہائی نرم گیلی مٹیوں میں دھان کے چراغ روپتی ہوئی سنا رہی ہیں فصل نو بہار کی بشارتیں درخت وجد میں ہیں یوں کہ جیسے جھومتے ہوئے شراب ارغواں کے صید مست زمین زادیاں ثنا و حمد کی ...

مزید پڑھیے

دے کر مجھے وہ یاد سبھی خواب لے گیا

دے کر مجھے وہ یاد سبھی خواب لے گیا یعنی مجھے بھی ساتھ تہہ آب لے گیا اس نے نہیں کیا ہے مری رات کو حسیں گو شام کو ہی دن کے سبھی تاب لے گیا تھا خوب طرف دار تمہارا پیام بر جس جس پہ اچھا لکھا تھا وہ باب لے گیا میں نے نہیں تھی چھیڑی مری تب کوئی غزل جب میرے سب خیال وہ بے خواب لے گیا تب رہ ...

مزید پڑھیے

آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا

آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا دشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیا کیا فیضیاب صحبت رندانہ ہو گیا دم بھر میں شیخ ساقیٔ مے خانہ ہو گیا سنتے ہیں بند پھر در مے خانہ ہو گیا دور ایاغ‌ و شغل مل افسانہ ہو گیا ملنے کے بعد بیٹھ رہا پھیر کر نگاہ ظالم یگانہ ہوتے ہی بیگانہ ہو ...

مزید پڑھیے

کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیا

کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیا ہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیا ملتے ملتے رہ گئی آنکھ اس کی چشم مست سے ہوتے ہوتے لب بہ لب ساغر سے ساغر رہ گیا آپ ہی سے بے خبر کوئی رہا وعدہ کی شب کیا خبر کس کی بغل میں کب وہ دلبر رہ گیا لے لیا میں نے کنارہ شوق میں یوں دفعتاً شوخیاں بھولا وہ ...

مزید پڑھیے

وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں

وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں تو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں در پیر مغاں پر اس طرح مے خوار بیٹھے ہیں کہ کچھ مخمور بیٹھے ہیں تو کچھ سرشار بیٹھے ہیں اگر وہ گالیاں دینے پر آمادہ ہیں خلوت میں تو ہم بھی عرض مطلب کے لیے تیار بیٹھے ہیں گلا میں کاٹ لوں خود اک ...

مزید پڑھیے

کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونا

کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونا لبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہونا غضب مل کر جدا مجھ سے ترا او فتنہ گر ہونا ستم نالوں کا پر تاثیر ہو کر بے اثر ہونا جگر میں درد لب پر نالۂ وحشت اثر ہونا عیاں کرتا ہے اک رشک پری کا دل میں گھر ہونا غضب نالہ کشی اک صاحب عصمت کے کوچہ ...

مزید پڑھیے

مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینا

مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینا لگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دینا وہ میرا بے خودی میں اس کے منہ سے منہ ملا دینا قیامت ایک چپ کا پھر وہ دونوں کو سزا دینا ادائے شرم ہو خلوت میں یا انداز شوخی کے ترے ہر ناز پر ہم کو تو جاں اے دل ربا دینا ہمارا آرزوئے بوسہ کرنا تجھ سے در ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5075 سے 6203