قومی زبان

سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے

سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے کیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہے چھپ نہیں سکتا وہ خون اپنے دل بسمل کا ہے مٹ نہیں سکتا جو دھبہ دامن قاتل کا ہے امتحاں مد نظر کس منچلے بسمل کا ہے معرکہ آرا جو یوں ہر ناز اس قاتل کا ہے بے اجازت اٹھ کے سینہ سے لگائے آپ کو حوصلہ اتنا بھی ...

مزید پڑھیے

محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمد

محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمد خدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمد فلک کو ہے آرزو کہ جھک کر میں اپنے تارے کروں نچھاور ہوئی ہے مکہ کی سر زمیں پہ یہ آج کس مہ لقا کی آمد ہر اک محب پر یہ فضل رب ہے اثر کو نالوں کی خود طلب ہے مگر اس الطاف کا سبب ہے حبیب رب العلا ...

مزید پڑھیے

اپنے احباب کو اشعار سنانے نکلا

اپنے احباب کو اشعار سنانے نکلا میں بھی کن لوگوں میں سر اپنا کھپانے نکلا بعد کوشش بھی نہ دیدار کی صورت نکلی چاند بدلی سے کسی اور بہانے نکلا اس کو تعلیم و محبت کی ضرورت ہے ابھی کم سنی میں یہ جو بے چارہ کمانے نکلا چاند کو دیکھ کے تارہ بھی بدل کر پوشاک بزم احباب میں رنگ اپنا جمانے ...

مزید پڑھیے

کچھ مری سن کچھ اپنی سنا زندگی

کچھ مری سن کچھ اپنی سنا زندگی درد دل اور تھوڑا بڑھا زندگی زندگانی کے فن سے ہوں لا علم میں زندگی کرنا مجھ کو سکھا زندگی تو نے اب تک وفا کی بہت شکریہ شکریہ شکریہ شکریہ زندگی ہر قدم ٹھوکریں زخم ہر گام ہیں کب تلک دوں بتا خوں بہا زندگی یہ کیا ہر گام بس لن ترانی وہی گیت کوئی نیا ...

مزید پڑھیے

زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیے

زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیے گزری ہوئی صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے اک پل خیال یار میں ہم منہمک رہے اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے شہرت کی بے خودی کا مزہ آپ جانیے عزت کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے کیف و نشاط جس سے ملا ہم کو بارہا اس کرب آگہی کا مزہ ہم سے پوچھیے فکر جہاں ہے اور ...

مزید پڑھیے

دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا

دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا تتلی کا رابطہ کیوں گل تر سے کٹ گیا دو چار گام کا ہی سفر رہ گیا تھا بس اس وقت میرا قافلہ رہبر سے کٹ گیا موسم کے سرد و گرم کا جل پر اثر نہ تھا وہ سنگ دل بھی شعر سخنور سے کٹ گیا صف میں مخالفوں کی میں سمجھا تھا غیر ہیں دیکھا جو اپنے لوگوں کو اندر سے ...

مزید پڑھیے

باغباں کی بے رخی سے نیلے پیلے ہو گئے

باغباں کی بے رخی سے نیلے پیلے ہو گئے خار کی مانند اب گل بھی نکیلے ہو گئے بہتے دریا سے سبھی سیراب ہیں لیکن مجھے صرف اک قطرہ ملا بس ہونٹ گیلے ہو گئے مے کشوں نے بس قدم رکھا تھا صحن باغ میں پھول پتے بیل بوٹے سب نشیلے ہو گئے ایک ہی آدم سے ہیں لیکن سیاست کے نثار کس قدر فرقے بنے کتنے ...

مزید پڑھیے

رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں

رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں کچھ یوں ہی زمانہ ہے اردو کے تعاقب میں لوٹے نہیں اب تک وہ برسوں ہوئے نکلے تھے پازیب کی چاہت میں گھنگرو کے تعاقب میں اک جادو کی ڈبیا ہے جو ان کا کھلونا ہے بچے نہیں رہتے اب جگنو کے تعاقب میں معصوم سی آنکھوں سے اک بوند ہی ٹپکی تھی بادل امڈ آئے ہیں ...

مزید پڑھیے

الفاظ کے پتھر کیا پھینکے گئے پانی میں

الفاظ کے پتھر کیا پھینکے گئے پانی میں طوفان سا برپا ہے دریائے معانی میں خوشیوں کے فسانے ہی دہرائے نہیں جاتے ہیں رنج کے چھینٹے بھی گھر گھر کی کہانی میں جادو ہی غضب کا تھا عکس رخ زیبا کا کیوں آگ نہ لگ جاتی بہتے ہوئے پانی میں دونوں ہی قبیلوں نے پیمان وفا باندھے لوٹ آئی وفا پھر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5076 سے 6203