سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے
سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے کیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہے چھپ نہیں سکتا وہ خون اپنے دل بسمل کا ہے مٹ نہیں سکتا جو دھبہ دامن قاتل کا ہے امتحاں مد نظر کس منچلے بسمل کا ہے معرکہ آرا جو یوں ہر ناز اس قاتل کا ہے بے اجازت اٹھ کے سینہ سے لگائے آپ کو حوصلہ اتنا بھی ...