خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں عشق مایوس ہوا ہو مگر ایسا بھی نہیں ان کی الفت میں اٹھائے ہیں ہزاروں الزام آج تک آنکھ اٹھا کر جنہیں دیکھا بھی نہیں راہ ہستی میں نگاہیں تو بھٹک سکتی ہیں دل بھٹک جائے مگر اتنا اندھیرا بھی نہیں بڑھ کے آئے تھے کئی غم پئے تسکیں لیکن غم دوراں ...