قومی زبان

خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں عشق مایوس ہوا ہو مگر ایسا بھی نہیں ان کی الفت میں اٹھائے ہیں ہزاروں الزام آج تک آنکھ اٹھا کر جنہیں دیکھا بھی نہیں راہ ہستی میں نگاہیں تو بھٹک سکتی ہیں دل بھٹک جائے مگر اتنا اندھیرا بھی نہیں بڑھ کے آئے تھے کئی غم پئے تسکیں لیکن غم دوراں ...

مزید پڑھیے

دلوں سے یاس و الم کے نقاب اتارو تو

دلوں سے یاس و الم کے نقاب اتارو تو سحر بھی روپ دکھائے گی شب گزارو تو فضا کے سینے میں نغموں کے لے اتارو تو اسی ادا سے ذرا پھر مجھے پکارو تو مرے غموں کے دھندلکے بھی چھٹ ہی جائیں گے تم اپنے گیسوئے شب رنگ کو سنوارو تو کہاں گئے مجھے تاریکیوں میں الجھا کر حیات رفتہ کے لمحو ذرا پکارو ...

مزید پڑھیے

میخانے پہ چھائی ہے افسردہ شبی کب سے

میخانے پہ چھائی ہے افسردہ شبی کب سے ساغر سے گریزاں ہے خود تشنہ لبی کب سے اے سایۂ گیسو کے دیوانو بتاؤ تو معیار جنوں ٹھہری راحت طلبی کب سے چوسا ہے لہو جس نے برسوں مہ و انجم کا انساں کا مقدر ہے وہ تیرہ شبی کب سے اک حشر سا برپا ہے زنداں سے بیاباں تک پابند سلاسل ہے ایذا طلبی کب سے جس ...

مزید پڑھیے

آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ ہر بات بہکی بہکی ہر گام والہانہ وہ سجدہ ہائے پیہم وہ ان کا آستانہ اے کاش لوٹ آئے گزرا ہوا زمانہ کونین کی توجہ اس بے رخی پہ صدقے ہونٹوں پہ ہے تبسم تیور مخالفانہ مجھ کو نہ تھی گوارا اپنی شکست لیکن کیا کہئے اس نظر کا انداز فاتحانہ سو بار دیکھ کر بھی ...

مزید پڑھیے

یقین صبح چمن ہے کتنا شعور ابر بہار کیا ہے

یقین صبح چمن ہے کتنا شعور ابر بہار کیا ہے سوال کرتے ہیں دشت و دریا کہ قافلے کا وقار کیا ہے جو چل پڑے جادۂ وفا پر انہیں غم روزگار کیا ہے صعوبتوں کے پہاڑ کیا ہیں تمازتوں کا غبار کیا ہے یہیں پہ منزل کریں گے راہی یہیں پہ سب قافلے رکیں گے ٹھہر ذرا شوق صبر دشمن یہ درد بے اختیار کیا ...

مزید پڑھیے

افق کے خونیں دھندلکوں کا صبح نام نہیں

افق کے خونیں دھندلکوں کا صبح نام نہیں قدم بڑھا کہ یہ ساتھی ترا مقام نہیں ابھی نہ دے مجھے اذن بہار اے ساقی ابھی حیات ستاروں سے ہم کلام نہیں ملا ہے اب کہیں صدیوں کے بعد مستوں کو وہ مے کدہ کہ جہاں کوئی تشنہ کام نہیں نہ عارضوں پہ شفق ہے نہ گیسوؤں میں شکن یہ صبح و شام نہیں میرے صبح و ...

مزید پڑھیے

شوق آوارہ دشت و در سے ہے

شوق آوارہ دشت و در سے ہے تہمت سنگ زخم سر سے ہے جادہ راہ بہشت ہم کو ندیم یہ ارم گرد رہ گزر سے ہے آبلوں سے نگار صحرا ہے رشتۂ غم پیامبر سے ہے اب خرابی سے ہیں در و دیوار اب جرس جادۂ سفر سے ہے رنج بے چارگی شب غم سے بزم مے مژدۂ سحر سے ہے

مزید پڑھیے

نشیلی چھاؤں میں بیتے ہوئے زمانوں کو

نشیلی چھاؤں میں بیتے ہوئے زمانوں کو لگا دو آگ اجل کے نگار خانوں کو بتا رہے ہیں جبین حیات کے تیور پناہ مل نہیں سکتی اب آستانوں کو دیے جلاؤ کہ انسانیت نے توڑ دیا جہان زر کے رو پہلے طلسم خانوں کو ہر ایک گام پہ مشعل دکھا رہی ہے حیات ستم کی آنچ میں نکھرے ہوئے زمانوں کو ہزار دار و ...

مزید پڑھیے

کارواں تیرہ شب میں چلتے ہیں

کارواں تیرہ شب میں چلتے ہیں آندھیوں میں چراغ جلتے ہیں لاکھ زنداں ہوں لاکھ دار و رسن اب ارادے کہیں بدلتے ہیں کس ادا سے سحر کے دیوانے سرخ پرچم لیے نکلتے ہیں روک سکتا ہے کیا انہیں صیاد جو قفس توڑ کر نکلتے ہیں کتنی صدیوں سے ذہن انساں میں رنگ و نکہت کے خواب پلتے ہیں

مزید پڑھیے

متاع شوق تو ہے درد روزگار تو ہے

متاع شوق تو ہے درد روزگار تو ہے اگر بہار نہیں عشرت بہار تو ہے ادائے چاک گریباں سے با خبر نہ سہی جنون شوق کو فردا کا اعتبار تو ہے ترس رہے ہیں دل و جاں جو رنگ و بو کے لئے مرے نصیب میں اک دشت انتظار تو ہے کہاں نصیب ہوس کو جنوں کی آرائش لہو لہو ہے گریبان تار تار تو ہے ان آبلوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5036 سے 6203