قومی زبان

بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے

بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے یہ تجربہ بھی اسی زندگی میں کرنا ہے ہوا درختوں سے کہتی ہے دکھ کے لہجے میں ابھی مجھے کئی صحراؤں سے گزرنا ہے میں منظروں کے گھنے پن سے خوف کھاتا ہوں فنا کو دست محبت یہاں بھی دھرنا ہے تلاش رزق میں دریا کے پنچھیوں کی طرح تمام عمر مجھے ڈوبنا ابھرنا ...

مزید پڑھیے

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں ترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سے جو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کر نئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں مرے وجود میں آباد ہیں کئی جنگل جہاں میں ہو کی صدائیں لگاتا رہتا ...

مزید پڑھیے

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے اس سے پہلے کہ مرا کام مکمل ہو جائے میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤ آدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو ویرانے ہوں پھر سے آباد کہیں ایسا نہ ہو ہر شہر ہی جنگل ہو جائے یہ زمیں جس پہ ہے گلزاروں کی تعداد بہت یہ بھی ہو ...

مزید پڑھیے

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے وہ تجھ سے پیار نہیں خود سے عشق کرتا ہے فضا میں خوف کے پرچم بلند ہوتے ہیں سواد شام سے لشکر کوئی گزرتا ہے مری زمیں کے بلاوے غضب کے ہیں لیکن کوئی جنوں مرے پر رات دن کترتا ہے میں اپنے آپ کو اب کس کے چاک پر رکھوں شکستہ ظرف دوبارہ کہیں سنورتا ہے لگے ...

مزید پڑھیے

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو جو سطح آب پہ ہو وہ مکاں تلاش کرو نگر میں دھوپ کی تیزی جلائے دیتی ہے نگر سے دور کوئی سائباں تلاش کرو ٹھٹھر گیا ہے بدن سب کا برف باری سے دہکتا کھولتا آتش فشاں تلاش کرو ہر ایک لفظ کے معنی بہت ہی اتھلے ہیں اک ایسا لفظ جو ہو بے کراں تلاش کرو بہت دنوں سے ...

مزید پڑھیے

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی پھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنی مرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پر مجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی میں نے دنیا کو سدا دل کے برابر سمجھا کام آئی نہ بزرگوں کی نصیحت ...

مزید پڑھیے

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے تم تو آئے اور دل کی آگ بھڑکاتے ہوئے موج مے بل کھا گئی گل کو جمائی آ گئی زلف کو دیکھا جو اس عارض پہ لہراتے ہوئے بے مروت یاد کر لے اب تو مدت ہو گئی تیری باتوں سے دل مضطر کو بہلاتے ہوئے نیند سے اٹھ کر کسی نے اس طرح آنکھیں ملیں صبح کے تارے کو دیکھا ...

مزید پڑھیے

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی ہر چند اشک یاس جب امڈے تو پی گئے چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی میں نے تو ہونٹ سی لیے اس دل کو کیا کروں بے اختیار تم کو پکارا کبھی کبھی زہر الم کی اور بڑھانے کو تلخیاں بے مہریوں کے ساتھ مدارا کبھی ...

مزید پڑھیے

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں عشق کی خامکاریاں نہ گئیں مر مٹے نام پر وفا کے ہم تیری بے اعتباریاں نہ گئیں لب پہ آیا نہ اس کا نام کبھی غم کی پرہیز گاریاں نہ گئیں کھپ گئی جان بجھ گئے تیور اشک کی تابداریاں نہ گئیں توبہ کرنے کو ہم نے کی تو مگر توبہ کی شرمساریاں نہ گئیں جان آ ہی گئی ...

مزید پڑھیے

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا میرے یوسف کے لئے مصر کا بازار نہ تھا خوں ہوا اشک بنا اور مژہ سے ٹپکا دل کہ لذت کش رنگینیٔ انکار نہ تھا مبتلا ہوں ترا جب سے صنم کفر فروش زلف تا دوش نہ تھی دوش پہ زنار نہ تھا قصۂ طور کبھی گوش حقیقت سے سنو شوق دیدار بجز حسرت دیدار نہ تھا غازۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5011 سے 6203