ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے
ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے اسی سے شہر و شجر کو ڈرانا ہوتا ہے وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوں مجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے منافقوں میں شب و روز بھی گزارتا ہوں اور ان کی زد سے بھی خود کو بچانا ہوتا ہے کتاب عمر بھری جا رہی ہے لیکن کیوں نہ کوئی لفظ نہ چہرہ پرانا ...