قومی زبان

ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے

ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے اسی سے شہر و شجر کو ڈرانا ہوتا ہے وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوں مجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے منافقوں میں شب و روز بھی گزارتا ہوں اور ان کی زد سے بھی خود کو بچانا ہوتا ہے کتاب عمر بھری جا رہی ہے لیکن کیوں نہ کوئی لفظ نہ چہرہ پرانا ...

مزید پڑھیے

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا کبھی حاصل ہمیں خس خانہ و برفاب رہتا تھا ابھرنا ڈوبنا اب کشتیوں کا ہم کہاں دیکھیں وہ دریا کیا ہوا جس میں سدا گرداب رہتا تھا وہ سورج سو گیا ہے برف زاروں میں کہیں جا کر دھڑکتا رات دن جس سے دل بیتاب رہتا تھا جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا ...

مزید پڑھیے

اہنسا کی پہلی سنہری کرن

خراماں خراماں چلی آ رہی ہے نگاہوں پہ اک حسن سے چھا رہی ہے ہر اک گام پر نور بکھرا رہی ہے افق پر وہ پرچم کو لہرا رہی ہے اہنسا کی پہلی سنہری کرن ملی کیمیا گر کو آخر وہ بوٹی کہ جس سے علائق کی زنجیر ٹوٹی شب تار میں جیسے مہتاب چھوٹی تجلی کے پردے سے پھوٹی وہ پھوٹی اہنسا کی پہلی ...

مزید پڑھیے

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں نہ جانے کس لیے خوشیوں سے بھر چکے ہیں دل مکان اب یہ عزا خانے ہونا چاہتے ہیں وہ بستیاں کہ جہاں پھول ہیں دریچوں میں اسی نواح میں ویرانے ہونا چاہتے ہیں تکلفات کی نظموں کا سلسلہ ہے سوا تعلقات اب افسانے ہونا ...

مزید پڑھیے

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی آپ کی شکوہ شکایت سے آگے نہ بڑھی لاکھ روتی رہی جلتی رہی افسوس مگر زندگی شمع کی اک رات سے آگے نہ بڑھی تو جفا کیش رہا اور میں وفا کوش رہا بات تیری بھی مری بات سے آگے نہ بڑھی یوں تو آغاز محبت میں بڑے دعوے تھے دوستی پہلی ملاقات سے آگے نہ بڑھی مل ...

مزید پڑھیے

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں اب آ بھی جاؤ دل زار مر نہ جائے کہیں مرا ستارا تو اب تک نظر نہیں آیا میں ڈر رہا ہوں کہ یہ شب گزر نہ جائے کہیں ندی کنارے کھڑا پیڑ سوچ میں گم ہے کوئی بھنور اسے برباد کر نہ جائے کہیں پرندے اپنے ٹھکانوں کو خیر سے پہنچے دعا یہی ہے کہ کوئی ٹھہر نہ ...

مزید پڑھیے

مری انا مرے دشمن کو تازیانہ ہے

مری انا مرے دشمن کو تازیانہ ہے اسی چراغ سے روشن غریب خانہ ہے میں اک طرف ہوں کسی کنج کم نمائی میں اور ایک سمت جہانداری زمانہ ہے یہ طائروں کی قطاریں کدھر کو جاتی ہیں نہ کوئی دام بچھا ہے کہیں نہ دانہ ہے ابھی نہیں ہے مجھے مصلحت کی دھوپ کا خوف ابھی تو سر پہ بغاوت کا شامیانہ ہے مری ...

مزید پڑھیے

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے مگر جنگوں کی تیاری بہت ہے خرد کی بستیوں کے پھونکنے کو جنوں کی ایک چنگاری بہت ہے سبھی زد میں ہیں دشت و کوہ و انساں یہ ضرب وقت ہے کاری بہت ہے پرانا خشک پتا کہہ رہا تھا ہوا میں تیز رفتاری بہت ہے ہم اپنے دل کی دنیا دیکھتے ہیں ہمیں یہ شغل بیکاری بہت ...

مزید پڑھیے

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی رہا ہے اس سے بہت رابطہ ہمارا بھی چمن وہی کہ جہاں پر لبوں کے پھول کھلیں بدن وہی کہ جہاں رات ہو گوارا بھی ہمیں بھی لمحۂ رخصت سے ہول آتا ہے جدا ہوا ہے کوئی مہرباں ہمارا بھی علامت شجر سایہ دار بھی وہ جسم خرابی دل و دیدہ کا استعارہ بھی افق تھکن کی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی مدت ہوئی اچھی کوئی صورت نہیں دیکھی چہروں کی طرح کس لیے مرجھائے ہوئے ہیں پھولوں نے تو ہم جیسی مصیبت نہیں دیکھی وہ شہر سے گزرا تھا فقط یاد ہے اتنا پھر کوئی بھی دستار سلامت نہیں دیکھی لوٹے جو مسافت سے تو میں اس سے یہ پوچھوں بستی تو کوئی راہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5010 سے 6203