کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم
کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم غیرت سے آ جاتا پسینا آنکھ نہ ہم سے ملاتے تم حیف تمہیں فرصت ہی نہیں ہے ورنہ کیا کیا حسرت تھی حال ہمارا کچھ سن لیتے کچھ حال اپنا سناتے تم ننگ ہے ملنا عار تکلم ایک زمانہ ایسا تھا بزم میں اپنی ہم کو بلا کر عزت سے بٹھلاتے تم ہم وہ نہیں ...