قومی زبان

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم غیرت سے آ جاتا پسینا آنکھ نہ ہم سے ملاتے تم حیف تمہیں فرصت ہی نہیں ہے ورنہ کیا کیا حسرت تھی حال ہمارا کچھ سن لیتے کچھ حال اپنا سناتے تم ننگ ہے ملنا عار تکلم ایک زمانہ ایسا تھا بزم میں اپنی ہم کو بلا کر عزت سے بٹھلاتے تم ہم وہ نہیں ...

مزید پڑھیے

ہائے رے پیاری پیاری آنکھ (ردیف .. ن)

ہائے رے پیاری پیاری آنکھ متوالی رتناری آنکھیں غارت دل پر ٹوٹ پڑی ہے شیام نگر کی کماری آنکھیں اس گھڑی دیکھو ان کا عالم نیند سے جب ہوں بھاری آنکھیں زہر کبھی ہیں اور کبھی امرت ان کی باری باری آنکھیں جن کو جھپکنا یاد نہیں ہے حیرت کی ہیں وہ ماری آنکھیں تکتی ہیں اب تک راہ کسی ...

مزید پڑھیے

نہ شرح شوق نہ تسکین جان زار میں ہے

نہ شرح شوق نہ تسکین جان زار میں ہے مزا جو اپنی محبت کے اعتبار میں ہے ابھی سے ہوش نہ کھو بیٹھ اے نسیم چمن ابھی تو ایک شکن زلف تاب دار میں ہے خود اپنے عشق کی رنگینیوں میں گم ہو جا نہیں کچھ اور اگر یہ تو اختیار میں ہے یہ محویت کوئی دیکھے کہ مثل آئینہ جنون خود نگری اپنے انتظار میں ...

مزید پڑھیے

بہار ہے ترے عارض سے لو لگائے ہوئے

بہار ہے ترے عارض سے لو لگائے ہوئے چراغ لالہ و گل کے ہیں جھلملائے ہوئے ترا خیال بھی تیری ہی طرح آتا ہے ہزار چشمک برق و شرر چھپائے ہوئے لہو کو پگھلی ہوئی آگ کیا بنائیں گے جو نغمے آنچ میں دل کی نہیں تپائے ہوئے ذرا چلے چلو دم بھر کو دن بہت بیتے بہار صبح چمن کو دلہن بنائے ہوئے قدیم ...

مزید پڑھیے

اشک گل رنگ نثار غم جانانہ کریں

اشک گل رنگ نثار غم جانانہ کریں آج تیری ہی خوشی اے دل دیوانہ کریں درد مندوں سے یہ کہہ دو کہ با آئین نیاز دل کو ذوق کرم یار سے بیگانہ کریں تاکہ آسودۂ حرماں دل غم کوش نہ ہو دو گھڑی ذکر مے و ساقی و پیمانہ کریں بوئے خوش تیری نہیں جن کے مشام جاں میں رنگ و نکہت کا گلوں کو وہی پیمانہ ...

مزید پڑھیے

آخر کار یہی عذر جفا کا نکلا

آخر کار یہی عذر جفا کا نکلا جرم اور جرم بھی اک عمر وفا کا نکلا اوس میں ڈوب کے جس طرح نکھرتا ہے گلاب شرم سے اور سوا حسن ادا کا نکلا کیا کری ہے کہ جب در پہ ترے آ بیٹھا آستیں سے نہ کبھی ہاتھ گدا کا نکلا جو دعا مانگی ہے اوروں ہی کی خاطر مانگی حوصلہ آج مرے دست دعا کا نکلا شوق منزل ہی ...

مزید پڑھیے

تسکین دل کو اشک الم کیا بہاؤں میں

تسکین دل کو اشک الم کیا بہاؤں میں جو آگ خود لگائی ہے کیوں کر بجھاؤں میں برباد کر چکے وہ میں برباد ہو چکا اب کیا رہا ہے روؤں اور ان کو رلاؤں میں لاچک، نسیم صبح، پیام وصال دوست کب تک مثال شمع رگ جاں جلاؤں میں اے عشق کیا یہی ہے مکافات آرزو اپنی ہی خاک ہاتھ سے اپنے اڑاؤں میں رویا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ہر پھول سناتا تھا فسانہ تیرا (ردیف .. م)

مجھ کو ہر پھول سناتا تھا فسانہ تیرا تیرے دامن کی قسم اپنے گریباں کی قسم گونجتا رہتا تھا اک نغمہ مرے کانوں میں تپش آہنگیٔ مضراب رگ جاں کی قسم التفات نگہ ناز کا سودا تھا کبھی ختم وہ دور ہوا گردش دوراں کی قسم اب نہ وہ دل ہے نہ وہ ولولۂ عرض نیاز ہاتھ سے چھوٹے ہوئے گوشۂ داماں کی ...

مزید پڑھیے

عشق کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں

عشق کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں یوسف دل کا خریدار کہاں سے لاؤں سنتے ہی نغموں کی اک لہر رگوں میں دوڑے میں تری شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں وہی شوریدہ سری ہے وہی ایذا طلبی عشق میں جادۂ ہموار کہاں سے لاؤں ہو گئیں آنکھوں سے وہ مست نگاہیں اوجھل عشرت خانۂ خمار کہاں سے لاؤں دل کی دھڑکن ...

مزید پڑھیے

کس طرح کھلتے ہیں نغموں کے چمن سمجھا تھا میں

کس طرح کھلتے ہیں نغموں کے چمن سمجھا تھا میں ساز ہستی پر تجھے جب زخمہ زن سمجھا تھا میں کیا خبر تھی ہم نوا ہو جائیں گے صیاد کے باغ کا اپنے جنہیں سرو و سمن سمجھا تھا میں قیدیٔ بے خانماں زنداں سے چھوٹے بھی اگر اور کچھ بڑھ جائیں گے رنج و محن سمجھا تھا میں تابع گردش ہیں کس کے انقلابات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5012 سے 6203