قومی زبان

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا خندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئی بیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندا اپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا کون کہے ...

مزید پڑھیے

وہ سر بام کب نہیں آتا

وہ سر بام کب نہیں آتا جب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا بہر تسکیں وہ کب نہیں آتا اعتبار آہ اب نہیں آتا چپ ہے شکوؤں کی ایک بند کتاب اس سے کہنے کا ڈھب نہیں آتا ان کے آگے بھی دل کو چین نہیں بے ادب کو ادب نہیں آتا زخم سے کم نہیں ہے اس کی ہنسی جس کو رونا بھی اب نہیں آتا منہ کو آ جاتا ہے جگر ...

مزید پڑھیے

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ روکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گی ہے کس ہوا میں دل کا سفینہ ہیں کیا معمہ یہ آگ پانی پیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ غم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاری دل کی تمنا نازک حسینہ آج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھے خشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ تاریخ ...

مزید پڑھیے

تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر

تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر وا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کر غم بڑھنے دے اے دل اور ذرا جانچ آہ کی بے تاثیر نہ کر ہے خواب ادھورا آپ ابھی بے سمجھے غلط تعبیر نہ کر جب ظلم کا بدلہ ظلم ہوا مظلوم کا حق کچھ بھی نہ رہا دے درد ہی میں لذت یا رب نالے کو عطا ...

مزید پڑھیے

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا آگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرا بے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا دل شوق کے جوش میں دوڑ چلا اور جوش تو ہوتا ہے اندھا در بند پڑا تھا قسمت کا ٹکر جو ...

مزید پڑھیے

بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے

بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے بس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے یہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چور جھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے ادھر ملامت دنیا ادھر ملامت نفس بڑا عذاب ہے آئے ہوئے حواس مجھے پلٹ دو بات نہ لو منہ سے نام رخصت کا ابھی سے گھر نظر آنے لگا اداس ...

مزید پڑھیے

پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں

پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں میں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوں مٹا دئے ہیں سب احساس اف رے ذوق شراب سرور کم نہ ہو ترشی بھی گر ملا کے پیوں گنہ پہ تہمت بے لذتی نہ رکھ زاہد مزہ نہ آئے تو کیوں منہ بنا بنا کے پیوں یہ تشنگی شہادت کا اقتضا اب ہے کہ آب تیغ ستم زہر میں ...

مزید پڑھیے

ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ

ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ کس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ جو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہ سمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ دو زندگیوں کا ہے چھوٹا سا یہ افسانہ لہرایا جہاں شعلہ اندھا ہوا پروانہ ان رس بھری آنکھوں سے مستی جو ٹپکتی ہے ہوتی ہے نظر ساقی دل بنتا ...

مزید پڑھیے

کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا

کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا موج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتا دل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا راہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نما ساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا کہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوح پوچھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے

وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے کہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سے بہت کچھ حسن ظن رکھتا ہے میرا مہرباں مجھ سے کہ تہمت دھر کے ہے خواہان تائید بیاں مجھ سے کسی گل کی قبا ملتی نہیں تحریق سے خالی جنوں نے لے کے بانٹی ہیں یہ کتنی دھجیاں مجھ سے پلا ساقی کہ رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4997 سے 6203