پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا
پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا خندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئی بیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندا اپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا کون کہے ...