قومی زبان

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے ہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والے حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے چپ ہے پروانہ تو کیا شمع کو خود ہے اقرار آپ ہی جلتے ہیں اوروں کو جلانے والے آرزوؔ ذکر زبانوں پہ ہے عبرت کے لئے مٹنے والے ہیں نہ باقی ...

مزید پڑھیے

کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا

کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا ساری جوانی آدھا مہینہ دنیائے دل کی رسمیں نرالی بے موت مرنا بے آس جینا روکا تھا دم بھر لہراتا آنسو آ آ گیا ہے دانتوں پسینہ وہ ایسے ہی ہیں جا رے جوانی جو خود ہی بخشا وہ خود ہی چھینا جس کا تھا وعدہ وہ کل نہ آئی دن گنتے گزرا سارا مہینہ منہ پر صفائی اور ...

مزید پڑھیے

میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے

میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے شمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئے نہ سہی خاک کے پتلوں میں صفات ملکی بارے اس بار وفا کے متحمل تو ہوئے حوصلے دل کے محبت میں جو پستے ہی رہے کر کے ہمت ترے غمزوں کے مقابل تو ہوئے پرشس غم زدگاں بہر تفنن ہی سہی خیر سے آپ بھی اس بزم میں شامل تو ...

مزید پڑھیے

جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے

جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے وہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہے ہمیشہ کو پھولے پھلے گا یہ گلشن ابھی دیکھنے کو تو مرجھا رہا ہے ہر اک شام کہتی ہے پھر صبح ہوگی اندھیرے میں سورج نظر آ رہا ہے بڑھی جا رہی ہے اگر دھوپ آگے تو سایہ بھی دوڑا چلا جا رہا ہے ستارے بنیں گے چمک دار آنسو یہ ...

مزید پڑھیے

بازار محبت میں شرمندہ شرافت ہے

بازار محبت میں شرمندہ شرافت ہے پھولوں کی نمائش ہے خوشبو کی تجارت ہے ہنستے ہوئے گلشن کو پل بھر میں رلا ڈالے آوارہ ہواؤں میں ایسی بھی مہارت ہے تعمیر کا جذبہ بھی تخریب کا نقشہ بھی یہ شوق شہادت ہے یا ذوق بغاوت ہے بجھتے ہوئے انگارے پیغام یہ دیتے ہیں شعلوں سے الجھنے کی شبنم میں ...

مزید پڑھیے

یہی مقام وفا ہے تو کوئی بات نہیں

یہی مقام وفا ہے تو کوئی بات نہیں یہ دل یہیں پہ لٹا ہے تو کوئی بات نہیں ہمارے دور محبت کا راز سر بستہ کسی سے تم نے سنا ہے تو کوئی بات نہیں بڑے سلیقے سے مضمون بند ہے اس میں لفافہ دل کا کھلا ہے تو کوئی بات نہیں مرے خلاف فلک بوس سازشوں کا دھواں تمہارے گھر سے اٹھا ہے تو کوئی بات ...

مزید پڑھیے

لہو کے ساتھ طبیعت میں سنسناتی پھرے

لہو کے ساتھ طبیعت میں سنسناتی پھرے یہ شام شام غزل سی ہے گنگناتی پھرے دھڑک رہا ہے جو پہلو میں یہ چراغ بہت بلا سے رات جو آئے تو رات آتی پھرے جواں دنوں کی ہوا ہے چلے چلے ہی چلے مرے وجود میں ٹھہرے کہ آتی جاتی پھرے غروب شام تو دن بھر کے فاصلے پر ہے کرن طلوع کی اتری ہے جگمگاتی پھرے غم ...

مزید پڑھیے

معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے

معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے کہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیں کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی کیا کس نے کہی کیا کس نے سنی یہ بتا زمانہ کیا ...

مزید پڑھیے

دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا ان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھا کھینچ لایا تھا یہ کس عالم سے کس عالم میں ہوش اپنا حال اپنے لیے جیسے کوئی افسانہ تھا چھوٹے چھوٹے دو ورق جل جل کے دفتر بن گئے درس حسرت دے رہا تھا جو پر پروانہ تھا جان کر وارفتہ ان کے چھیڑنے کی دیر ...

مزید پڑھیے

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی آنکھ سے بہہ نہیں سکتا ہے بھرم کا پانی پھوٹ بھی جائے گا چھالا تو نہ دے گا پانی چاہ میں پاؤں کہاں آس کا میٹھا پانی پیاس بھڑکی ہوئی ہے اور نہیں ملتا پانی دل سے لوکا جو اٹھا آنکھ سے ٹپکا پانی آگ سے آج نکلتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4996 سے 6203