قومی زبان

آنکھ سے دل میں آنے والا

آنکھ سے دل میں آنے والا دل سے نہیں اب جانے والا گھر کو پھونک کے جانے والا پھر کے نہیں ہے آنے والا دوست تو ہے نادان ہے لیکن بے سمجھے سمجھانے والا آنسو پونچھ کے ہنس دیتا ہے آگ میں آگ لگانے والا ہے جو کوئی تو دھیان اسی کا آنے والا جانے والا حسن کی بستی میں ہے یارو کوئی ترس بھی ...

مزید پڑھیے

ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو

ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو اور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہو تقدیر سے ڈرتا ہوں کہ پھر مت نہ پلٹ جائے تم دل کے خریدار اگر ہو تو ابھی ہو دیدار کو کل کہہ کے قیامت پہ وہ ٹالیں اور شوق کا اصرار اگر ہو تو ابھی ہو بدلا ہوا ہر عہد نیا لاتا ہے پیغام یہ کیا کہ ہر اقرار اگر ہو تو ...

مزید پڑھیے

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ...

مزید پڑھیے

دل مکدر ہے آئینہ رو کا

دل مکدر ہے آئینہ رو کا نہ ملا رنگ سے پتا بو کا ہے دم صبح وہ خماریں آنکھ ایک ٹوٹا طلسم جادو کا کم جو ٹھہرے جفا سے میری وفا تو یہ پاسنگ ہے ترازو کا دل کی بے چینیاں خدا کی پناہ تکیہ ہٹ ہٹ گیا ہے پہلو کا کہیں جاتی بہار رکتی ہے دامن آیا نہ ہاتھ میں بو کا ہے نئی قید اب یہ آزادی زور ...

مزید پڑھیے

مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں

مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں ہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں دلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاں چمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں جسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہے وہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں امنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھی ملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار ...

مزید پڑھیے

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا بہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا امین عشق نے دل بے خطر خرید لیا یہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا غضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھی جو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا بھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کا اگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا رہ رضا میں ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے

کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے چتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہے آنے کو ہے کوئی جو للک پھر سے ہوئی ہے ڈوبے ہوئے سورج کی کرن پھوٹ رہی ہے ہے پگھلی ہوئی آگ کہ جلتے ہوئے آنسو لوکا وہیں اٹھا ہے جہاں بوند پڑی ہے جب سکھ نہیں جینے میں تو اک روگ ہے جینا سانس آئی ہے جب چوٹ کلیجے میں ...

مزید پڑھیے

آج بے آپ ہو گئے ہم بھی

آج بے آپ ہو گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن میں تھوڑے موتی پرو گئے ہم بھی دیر سے تھے وہ جس کے گھیرے میں اسی جھرمٹ میں کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا کہاں کہاں نہ تمہیں جب نہ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم ...

مزید پڑھیے

اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا

اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا آنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جا دل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا سانس کا تار ٹوٹ جائے ٹوٹے نہ تار آہ کا ایک ہی لے پہ گائے جا ایک ہی دھن بجائے جا حکم طلب کے منتظر شوق کی آبرو نہ ...

مزید پڑھیے

نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں

نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں ہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوں رخنہ اندازئ اندوہ سے غافل نہیں میں ہے جگر چاک تو کیا ہونٹ سیے بیٹھا ہوں کیا کروں دل کو جو لینے نہیں دیتا ہے قرار جو مقدر نے دیا ہے وہ لیے بیٹھا ہوں التفات اے نگہ ہوشربا اب کیوں ہے پاس جو کچھ تھا وہ پہلے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4995 سے 6203