قومی زبان

چراغ درد کہ شمع طرب پکارتی ہے

چراغ درد کہ شمع طرب پکارتی ہے اک آگ سی لب دریائے شب پکارتی ہے عدو سے جان بچی ہے نہ دوست بچھڑے ہیں یہ شام گریہ ہمیں بے سبب پکارتی ہے چراغ شوق پہ رہ رہ کے نور آتا ہے ہوا بہ طرز رخ و چشم و لب پکارتی ہے شہید آب و نمک ہیں سو بڑھتے جاتے ہیں شکست و فتح پیادوں کو کب پکارتی ہے صدائیں دے کے ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی شے ہو میاں جان سے پیاری کسے ہے

کوئی بھی شے ہو میاں جان سے پیاری کسے ہے جان ہاری ہے تو یہ دیکھیے ہاری کسے ہے کورنش گل کو کرے کلیوں کو آداب کہے ہوش یہ مملکت باد بہاری کسے ہے دل بھی بس ایک نمونہ ہے کہ دنیا پہ مٹا نذر زیبا تھی کسے اور گزاری کسے ہے ایک کھونٹے سے بندھے دشت و دمن دیکھے ہیں اب میسر رم آہوئے تتاری کسے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تقدیر نے یوں بے سر و آثار کیا

مجھ کو تقدیر نے یوں بے سر و آثار کیا ایک دروازہ دعا کا تھا سو دیوار کیا خواب آئندہ ترے لمس نے سرشار کیا خشک بادل تھے ہمیں تو نے گہر بار کیا دیکھنے کی تھی نگاہوں میں انا کی صورت اس گرفتار نے جب مجھ کو گرفتار کیا مدتوں گھاؤ کیے جس کے بدن پر ہم نے وقت آیا تو اسی خواب کو تلوار ...

مزید پڑھیے

مسافتوں میں دھوپ اور چھاؤں کا سوال کیا

مسافتوں میں دھوپ اور چھاؤں کا سوال کیا سفر ہی شرط ہے تو پھر عروج کیا زوال کیا فراق ساعتوں کے زخم روح تک پہنچ چکے میسر آئیں بھی تو اب مساعیٔ وصال کیا ہنر کو دھوپ جنگلوں کی مسکراہٹوں میں ہے گلاب بستیوں میں ہنستے رہنے کا کمال کیا امید ہی تو دل شجر کی آخری اساس تھی شگوفہ یہ بھی ہو ...

مزید پڑھیے

جنوں کے طور ہم ادراک ہی سے باندھتے ہیں

جنوں کے طور ہم ادراک ہی سے باندھتے ہیں کہ تیر و تار کو فتراک ہی سے باندھتے ہیں بیوں کو شاخ گل تر ہی راس آتی ہے اگرچہ گھونسلے خاشاک ہی سے باندھتے ہیں فلک سے نور و تمازت تو لیتے ہیں لیکن شجر جڑوں کو فقط خاک ہی سے باندھتے ہیں لہو سے صرف نظر کی عجب روایت ہے امید نشہ یہاں تاک ہی سے ...

مزید پڑھیے

عشق مرہون حکایات و گماں بھی ہوگا

عشق مرہون حکایات و گماں بھی ہوگا واقعہ ہے تو کسی طور بیاں بھی ہوگا دل عطیہ کہیں کرتا تو پریشاں ہوگا خیر و خوبی سے ہی ہوگا وہ جہاں بھی ہوگا ایک دن دیکھنا رک جائیں گے دریا سارے ایک دن دیکھنا یہ دشت رواں بھی ہوگا آپ دنیا کو محبت کی دوا بیچتے ہیں آپ کے پاس علاج غم جاں بھی ہوگا ایک ...

مزید پڑھیے

رکتے ہوئے قدموں کا چلن میرے لیے ہے

رکتے ہوئے قدموں کا چلن میرے لیے ہے سیارۂ حیرت کی تھکن میرے لیے ہے کوئی مرا آہو مجھے لا کر نہیں دیتا کہتے تو سبھی ہیں کہ ختن میرے لیے ہے تپ سی مجھے آ جاتی ہے آغوش میں اس کی وہ برف کے گالے سا بدن میرے لیے ہے ہیں جوئے تب و تاب پہ انوار کے پیاسے اور شام کا یہ سانولا پن میرے لیے ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے تمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے عجیب سوز سے لبریز ہیں مرے نغمے کہ ساز دل ہے محبت کی چوٹ کھائے ہوئے جو تجھ سے کچھ بھی نہ ملنے پہ خوش ہیں اے ساقی کچھ ایسے رند بھی ہیں مے کدے میں آئے ہوئے تمہارے ایک تبسم نے دل کو لوٹ لیا رہے لبوں پہ ہی ...

مزید پڑھیے

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا لے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گا عارض گل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گلچیں ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گزر جاؤں گا اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا دیکھ جی بھر کے مگر توڑ نہ مجھ کو گلچیں ہاتھ بھی تو نے لگایا تو بکھر جاؤں ...

مزید پڑھیے

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں قلب تڑپ تڑپ اٹھا روح لرز لرز گئی بجلیاں تھیں بھری ہوئی زمزمۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4983 سے 6203