مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے
مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے یہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے شمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریا ہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے نظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہے چمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب ...