قومی زبان

مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے

مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے یہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے شمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریا ہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے نظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہے چمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب ...

مزید پڑھیے

حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا

حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا جو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیا ہاتھ میں لے کے جام مے آج وہ مسکرا دیا عقل کو سرد کر دیا روح کو جگمگا دیا دل پہ لیا ہے داغ عشق کھو کے بہار زندگی اک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا لذت درد خستگی دولت دامن تہی توڑ کے سارے حوصلے اب مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے

ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے لطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے معنی آدم کجا اور صورت آدم کجا یہ نہاں خانے میں تھا اب تک نہاں خانے میں ہے خرمن بلبل تو پھونکا عشق آتش رنگ نے رنگ کو شعلہ بنا کر کون پروانے میں ہے جلوۂ حسن پرستش گرمئ حسن نیاز ورنہ کچھ کعبے میں رکھا ہے ...

مزید پڑھیے

یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی

یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی میری رگ رگ میں ہے اک آتش بے نام ابھی عاشقی کیا ہے ہر اک شے سے تہی ہو جانا اس سے ملنے کی ہے دل میں ہوس خام ابھی انتہا کیف کی افتادگی و پستی ہے مجھ سے کہتا تھا یہی درد تہ جام ابھی علم و حکمت کی تمنا ہے نہ کونین کا غم میرے شیشے میں ہے باقی مئے گلفام ...

مزید پڑھیے

نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے

نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے جان مے خانہ تری نرگس مستانہ بنے پرتو رخ کے کرشمے تھے سر راہ گزر ذرے جو خاک سے اٹھے وہ صنم خانہ بنے کار فرما ہے فقط حسن کا نیرنگ کمال چاہے وہ شمع بنے چاہے وہ پروانہ بنے اس کو مطلوب ہیں کچھ قلب و جگر کے ٹکڑے جیب و دامن نہ کوئی پھاڑ کے دیوانہ ...

مزید پڑھیے

رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے

رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے سامنے لا کر تجھے اپنا تماشا دیکھتے کم سے کم حسن تخیل کا تماشا دیکھتے جلوۂ یوسف تو کیا خواب زلیخا دیکھتے کچھ سمجھ کر ہم نے رکھا ہے حجاب دہر کو توڑ کر شیشے کو پھر کیا رنگ صہبا دیکھتے روز روشن یا شب مہتاب یا صبح چمن ہم جہاں سے چاہتے وہ روئے زیبا ...

مزید پڑھیے

اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے

اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے حیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہے سو بار جلا ہے تو یہ سو بار بنا ہے ہم سوختہ جانوں کا نشیمن بھی بلا ہے ہونٹوں پہ تبسم ہے کہ اک برق بلا ہے آنکھوں کا اشارہ ہے کہ سیلاب فنا ہے سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ...

مزید پڑھیے

ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی

ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی زبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زباں رکھ دی مٹی جاتی تھی بلبل جلوۂ گل ہائے رنگیں پر چھپا کر کس نے ان پردوں میں برق آشیاں رکھ دی نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی قفس کی یاد میں یہ اضطراب دل معاذ ...

مزید پڑھیے

جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے

جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے نیرنگ تماشا وہ جلوا نظر آتا ہے آنکھوں سے اگر دیکھو پردہ نظر آتا ہے لو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہے فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے اے پردہ نشیں ضد ہے کیا چشم تمنا کو تو دفتر گل میں بھی رسوا نظر آتا ہے نظارہ ...

مزید پڑھیے

شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے

شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے جب جان پر بنی ہو تو کیا کیا نہ چاہیئے ساقی تری نگاہ کو پہچانتا ہوں میں مجھ سے فریب ساغر و مینا نہ چاہیئے یہ آستان یار ہے صحن حرم نہیں جب رکھ دیا ہے سر تو اٹھانا نہ چاہیئے خود آپ اپنی آگ میں جلنے کا لطف ہے اہل تپش کو آتش سینا نہ چاہیئے کیا کم ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4982 سے 6203