قومی زبان

نیند

نیند آنی ہو تو آ جاتی ہے تیز پنکھا ہو یا بہت دھیما سرد موسم ہو یا بہت گرمی ہاتھ سینہ پہ ہو کہ سر کے تلے ہو اندھیرا یا روشنی تیکھی رات ہو دن ہو شور یا چپی سخت بستر ہو سلوٹوں والا آنکھ جلتی ہو برے سپنوں سے سر پہ منڈلاتی ہو کالی چھایا نیند آنی ہو تو آ جاتی ہے اور جب نیند نہیں آنی ...

مزید پڑھیے

بنیادیں

بکھر گئے ہیں ستارہ بن کے اس ایک سورج کے کتنے ٹکڑے ہر اک ٹکڑا الگ جہاں ہے سرحد کے بندھن میں آسماں ہے زمین کا تو وجود کیا ہے ہر اک کن پہ خدا لکھا ہے ہر اک خدا کا ہے اپنا شجرہ ہر اک شجرے کی اپنی دنیا ہر اک دنیا کے اپنے حصے ہر اک حصہ کے اپنے رشتے ہر اک رشتے میں سو دیواریں ہر ایک دیوار ...

مزید پڑھیے

باسی رشتے

چلو مل جل کے ہم رشتوں کے باسی پن کا حل سوچیں اچانک پھر اسی انداز سے نظریں ملیں اپنی جب ہم نے پہلے پہلے ایک دوجے کو سراہا تھا سہم جائیں یہ اپنی ان تمناؤں کی آہٹ سے دھڑکتے دل سے جب ہم نے کوئی سپنا سجایا تھا وہ ہی بے ساختہ سی سادگی کے پل جئیں پھر سے وفا کا یا جفا کا ذکر تھا نہ نام ...

مزید پڑھیے

میں تو جیسے کھڑا ہوا ہوں اک منزل پر

میں تو جیسے کھڑا ہوا ہوں اک منزل پر اور لمحہ یہ وقت کے ٹکڑے یوں اڑتے ہیں چاروں طرف اک تتلی جیسے جس کے پنکھ کبھی تو سنہرے اور کبھی لگتے ہیں سیہ سوتا یوں ہی بے معنی بے موقعہ ناچنے لگتی ہے دنیا دل گیت سناتا ہے بنجر دھرتی سے ابلے پڑتے ہیں نور کے چشمہ اور اچانک بادل کی چادر سورج کے منہ ...

مزید پڑھیے

سفر

ناامیدی یہ بتاتی ہے کہ شب کی چادر آخری چھور ہے کہ ختم ہوا میرا سفر تیرگی جیت گئی ہار گیا نور نظر دل کے کونے میں تبھی جلتی ہے اک شمع یقیں رات منزل بھی نہیں میل کا پتھر بھی نہیں ایک خاموش سی آواز میں کچھ گاتے ہیں رات کے خواب جو جگنو کی طرح آتے ہیں صبح کے ہونے میں بے نور سے ہو جاتے ...

مزید پڑھیے

روشنائی

کسی گمان کا سایہ نہ شک کی پرچھائیں سراب ہے نہ جھروکہ نظر کی راہوں میں یقین ہے کہ اندھیرا فقط اندھیرا ہے فریب نور کوئی بھی نہیں نگاہوں میں نہ انتظار کے معنی نہ صبر کے پیماں کسی دشا میں افق بھی نظر نہیں آتا سیاہی کالی سہی روشنائی ہے پھر بھی نہ آئے گر کوئی ورق سحر نہیں آتا اندھیرا ...

مزید پڑھیے

کون ستارے چھو سکتا ہے

جن چیزوں کا سپنا دیکھا وہ سب چیزیں پائیں ہیں جگ والوں نے محنت کی ہے ساری چیز جٹائیں ہیں اب جب سب کچھ پاس ہے میرے کوئی بھی رومانس نہیں عشق کے کوئی مزے نہیں ہیں ٹیس نہیں ہے پھانس نہیں سپنوں کی دھرتی اپجاؤو سپنوں سے سپنے اگتے ہیں سپنے کس ماحول میں جانے آتے سوتے جاگتے ...

مزید پڑھیے

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے ادھر خنجر ادھر عاری پڑی ہے میرے ہی سر پہ ہیں الزام سارے بڑی مہنگی وفا داری پڑی ہے عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے بچھڑ کر ہو گیا برباد وہ بھی ہمیں بھی چوٹ یہ کاری پڑی ہے سمندر سے کوئی رشتہ ہے اس کا ندی کس واسطے کھاری پڑی ہے

مزید پڑھیے

اپنے گھر میں مری تصویر سجانے والے

اپنے گھر میں مری تصویر سجانے والے انگلیاں تجھ پہ اٹھائیں گے زمانے والے جا تجھے بھی کہیں دیوار کا سایہ نہ ملے غم کے صحرا میں مجھے چھوڑ کے جانے والے ہم فقیروں کی بھی تھوڑی سی دعائیں لے جا کام آئیں گی نظر پھیر کے جانے والے شعلہ رو شعلہ بدن شعلہ سخن شعلہ مزاج آ گئے گھر میں مرے آگ ...

مزید پڑھیے

قید ہستی میں ہوں اپنے فرض کی تعمیل تک

قید ہستی میں ہوں اپنے فرض کی تعمیل تک اک نئی دنیا نئے انسان کی تشکیل تک دام ہم رنگ زمیں پھیلا دیا صیاد نے وادیٔ گنگ و جمن سے رود بار نیل تک آنکھ سے بہہ جائے گا دل میں اگر باقی رہا قطرۂ خوں داستان درد کی تکمیل تک شاعری کا ساز ہے وہ ساز ہو جس ساز میں نغمۂ روح الامیں سے بانگ اسرافیل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4945 سے 6203