کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا
کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا کسی نے مڑ کے نہ دیکھا کسی نے داد نہ دی لہولہان لبوں ...