قومی زبان

کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا

کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا کسی نے مڑ کے نہ دیکھا کسی نے داد نہ دی لہولہان لبوں ...

مزید پڑھیے

کٹ گئیں ساری پتنگیں ڈور سے

کٹ گئیں ساری پتنگیں ڈور سے چلتی ہیں کیسے ہوائیں زور سے بے وفا سارے پرندے ہو گئے دوستی اپنی بھی تھی اک مور سے چند جذبے جنگ میں مشغول تھے رات بھر میں سو نہ پایا شور سے آخرش سورج اڑا کے لے گئے بھیک کب تک مانگتے ہم بھور سے اک نہ اک دن سرد جھونکے آئیں گے رابطہ رکھئے گھٹا گھنگھور ...

مزید پڑھیے

دیے کی آنکھ سے جب گفتگو نہیں ہوتی

دیے کی آنکھ سے جب گفتگو نہیں ہوتی وہ میری رات کبھی سرخ رو نہیں ہوتی ہوا کے لمس میں اس کی مہک بھی ہوتی ہے وہ شاخ گل جو کہیں رو بہ رو نہیں ہوتی کسے نصیب یہ شیرینئ لب و لہجہ ہر ایک دشت میں یہ آب جو نہیں ہوتی میں حرف حرف میں پیکر ترا سموتا ہوں غزل تو ہوتی ہے پر ہو بہ ہو نہیں ہوتی کبھی ...

مزید پڑھیے

تیرے آنے کا گماں ہوتا ہے

تیرے آنے کا گماں ہوتا ہے کس زمانے کا گماں ہوتا ہے سنگ ریزوں پہ بھی اب چڑیوں کو دانے دانے کا گماں ہوتا ہے میں کھنڈر ہوں تو جہاں کو مجھ میں اک خزانے کا گماں ہوتا ہے ایک تصویر ہوں غم کی جس پر مسکرانے کا گماں ہوتا ہے پیڑ کٹتے ہیں تو ہر تنکے پر آشیانے کا گماں ہوتا ہے دل کہاں اب تو ...

مزید پڑھیے

اب رات آرہی ہے

چلو اب دعا کرو نظمیں پڑھو وصال کی سب آیتیں پڑھو کیا رہ گیا ہے شام کا اب رات سے فراغ جب حرف خون داغ آندھی میں ایک نیم نفس بے ہوا چراغ ان قہقہوں کو روک لو اک شب کی بات ہے میں سوچتا ہوں چپ رہوں لیکن تمہیں بتاؤ کیا یہ حیات ہے

مزید پڑھیے

خوف

ایک سایہ سا در آیا کوئی نیلا سایہ کانپ اٹھی شاخ نحیف کانپ اٹھی ایک نئی سی آہٹ رات بڑھتی رہی مسموم سیاہ سیل سے بچ کے اکیلا میں کہاں بیٹھا ہوں جسم سے نقطے میں تبدیل ہوا جاتا ہوں

مزید پڑھیے

کھوکھلے برتن کے ہونٹ

کھوکھلے برتن کے ہونٹ صدا کے کھوکھلے بت پر وہ اپنی انگلیاں گھستے رہیں گے اندھیرے نرخرے سے بس ہوا کی رفت و آمد کا نشاں معلوم ہوتا ہے زباں پر سبز دھبے پڑتے جائیں گے چمکتے سبز دھبوں میں ٹھٹھرتے آئینے نیلی دعاؤں کے کوئی یہ ان سے کہہ دو کہ آوازیں کھڑکنے کے سوا یا دھڑدھڑانے شور اٹھنے ...

مزید پڑھیے

شام کا رقص

یک بہ یک دھوپ نیچے گری جیسے چینی کی اک طشتری ہاتھ خاموش ساعت کے آگے لرزنے لگا اور کہنے سے ہونٹوں کے اندر چھپی برق آ کر چمکنے لگی آشیاں جل گیا شام کا رقص میدان ہنگامۂ خوف میں گرم ہوتا رہا پنکھڑی پنکھڑی قطرہ قطرہ اترتا رہا میں کہ دیوار کے سامنے دھوپ کا تیز جھونکا بنوں آگ کے ...

مزید پڑھیے

دریا نہیں سراب ہے میں نے کہا نہ تھا

دریا نہیں سراب ہے میں نے کہا نہ تھا دنیا طلسم خواب ہے میں نے کہا نہ تھا چھونا اسے عذاب ہے میں نے کہا نہ تھا اس کا بدن رباب ہے میں نے کہا نہ تھا پھر بھی تو اس میں بوئے وفا ڈھونڈھتا رہا وہ کاغذی گلاب ہے میں نے کہا نہ تھا جو تیرے ارد گرد ہوائیں ہیں ان کے پاس ہر سانس کا حساب ہے میں نے ...

مزید پڑھیے

برف شعلہ ہے آگ پانی ہے

برف شعلہ ہے آگ پانی ہے یہ سیاست کی مہربانی ہے نفرتوں سے کہو نکل جائیں دل محبت کی راجدھانی ہے اس پہ بھی ہے نظر زمانے کی میرے پرکھوں کی جو نشانی ہے دور رہنے لگی تھکن مجھ سے جب سے صحرا کی بات مانی ہے وہ بھی ہم راہ ہیں میرے اشرفؔ اور موسم بھی زعفرانی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4934 سے 6203