جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے مگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے بہت کچھ اور بھی ہے اس جہاں میں یہ دنیا محض غم ہی غم نہیں ہے تقاضے کیوں کروں پیہم نہ ساقی کسے یاں فکر بیش و کم نہیں ہے ادھر مشکوک ہے میری صداقت ادھر بھی بد گمانی کم نہیں ...