قومی زبان

پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے

پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے کانٹوں کی چبھن پہ بھی فدا تھے تو ہمیں تھے بازار تمنا میں تو ہر شخص مگن تھا ہر موڑ پہ دنیا سے خفا تھے تو ہمیں تھے جس بت کو تصور میں خدا مان لیا تھا اس بت کی نگاہوں میں خدا تھے تو ہمیں تھے احباب کو حالات کی سازش کا گلا تھا ہر حال میں راضی بہ ...

مزید پڑھیے

غم کے بادل دل ناشاد پہ ایسے چھائے

غم کے بادل دل ناشاد پہ ایسے چھائے سایۂ گل میں بھی ہم راز نہ ہنسنے پائے یوں تصور میں دبے پاؤں تری یاد آئی جس طرح شام کی بانہوں میں ستارے آئے وقت کی دھوپ میں ہم سایۂ حسرت بن کر دو گھڑی کوئے تمنا میں نہ چلنے پائے زندگی موج تلاطم کی طرح رک نہ سکی یوں تو ہر موڑ پہ طوفان ہزاروں آئے اس ...

مزید پڑھیے

جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہوگا

جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہوگا ہمدم مری قسمت کا ستارہ بھی تو ہوگا یہ سوچ کے اس شہر میں ہم آئے تھے شاید اے جان طلب کوئی ہمارا بھی تو ہوگا ہم عشق کی منزل میں خطاوار ہیں لیکن پہلے تری جانب سے اشارہ بھی تو ہوگا ہم گردش گرداب الم سے نہیں ڈرتے طوفاں ہے اگر آج کنارہ بھی تو ہوگا

مزید پڑھیے

مصور کا ہاتھ

مشینوں سے اسے نفرت تھی لیکن کارخانے میں مشینوں کے سوا ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا وہ خوابوں کا مصور جس کے خوابوں میں عموماً تلخیاں بھی رنگ بھرتی تھیں کبھی ماں کی دوا بہنوں کی شادی کبھی یاد وطن کی چاشنی وسکی کی کڑواہٹ تو اس کے اپنے اندر کا مصور اس سے کہتا تھا میں قیدی ہوں مجھے ...

مزید پڑھیے

یہ میری دنیا یہ میری ہستی

یہ میری دنیا یہ میری ہستی نغمہ طرازی صہبا پرستی شاعر کی دنیا شاعر کی ہستی یا نالۂ غم یا شور مستی سب سے گریزاں سب پر برستی آنکھوں کی مستی مہنگی نہ سستی یا خلد و ساقی اے جذب مستی یا ٹکڑے ٹکڑے دامان ہستی محو سفر ہوں گرم سفر ہوں میری نظر میں رفعت نہ پستی ان انکھڑیوں کا عالم نہ ...

مزید پڑھیے

حسن کو بے حجاب ہونا تھا

حسن کو بے حجاب ہونا تھا شوق کو کامیاب ہونا تھا ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ خون دل بھی شراب ہونا تھا تیرے جلووں میں گھر گیا آخر ذرے کو آفتاب ہونا تھا کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا رات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔ باعث اضطراب ہونا تھا

مزید پڑھیے

عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ

عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ بے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگ جس طرح چاہے چھیڑ دے ہم کو تیرے ہاتھوں میں ساز ہیں ہم لوگ بے سبب التفات کیا معنی کچھ تو اے چشم ناز ہیں ہم لوگ محفل سوز و ساز ہے دنیا حاصل سوز و ساز ہیں ہم لوگ کوئی اس راز سے نہیں واقف کیوں سراپا نیاز ہیں ہم لوگ ہم کو رسوا نہ کر ...

مزید پڑھیے

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور ...

مزید پڑھیے

رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا

رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا خلد بھی جس پہ ہو قرباں وہ دیار آ ہی گیا یہ جنوں زار مرا میرے غزالوں کا جہاں میرا نجد آ ہی گیا میرا تتار آ ہی گیا آج پھرتا بہ چمن درپئے گل ہائے چمن گنگناتا ہوا زنبور بہار آ ہی گیا گیسوؤں والوں میں ابرو کے کماں داروں میں ایک صید آ ہی گیا ایک شکار آ ہی ...

مزید پڑھیے

جگر اور دل کو بچانا بھی ہے

جگر اور دل کو بچانا بھی ہے نظر آپ ہی سے ملانا بھی ہے محبت کا ہر بھید پانا بھی ہے مگر اپنا دامن بچانا بھی ہے جو دل تیرے غم کا نشانہ بھی ہے قتیل جفائے زمانہ بھی ہے یہ بجلی چمکتی ہے کیوں دم بدم چمن میں کوئی آشیانہ بھی ہے خرد کی اطاعت ضروری سہی یہی تو جنوں کا زمانا بھی ہے نہ دنیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4874 سے 6203