قومی زبان

سارا عالم گوش بر آواز ہے

سارا عالم گوش بر آواز ہے آج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہے تو جہاں ہے زمزمہ پرداز ہے دل جہاں ہے گوش بر آواز ہے ہاں ذرا جرأت دکھا اے جذب دل حسن کو پردے پہ اپنے ناز ہے ہم نشیں دل کی حقیقت کیا کہوں سوز میں ڈوبا ہوا اک ساز ہے آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم میری مے خواری ابھی تک راز ہے ہنس ...

مزید پڑھیے

دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی

دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی عشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھی خود ہی جھکتا ہوں کہ دعوائے جنوں کیا کیجئے کچھ گوارا بھی ہے یہ قید در و بام ابھی یہ جوانی تو ابھی مائل پیکار نہیں یہ جوانی تو ہے رسوائے مے و جام ابھی واعظ و شیخ نے سر جوڑ کے بد نام کیا ورنہ بد نام نہ ہوتی مے گلفام ...

مزید پڑھیے

وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں

وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں ورنہ میری نگہ شوق بھی مجبور نہیں خاطر اہل نظر حسن کو منظور نہیں اس میں کچھ تیری خطا دیدۂ مہجور نہیں لاکھ چھپتے ہو مگر چھپ کے بھی مستور نہیں تم عجب چیز ہو نزدیک نہیں دور نہیں جرأت عرض پہ وہ کچھ نہیں کہتے لیکن ہر ادا سے یہ ٹپکتا ہے کہ منظور ...

مزید پڑھیے

آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے

آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے میری نظروں میں حشر بھی کیا ہے میں نے ان کا جلال دیکھا ہے جلوۂ طور خواب موسیٰ ہے کس نے دیکھا ہے کس کو دیکھا ہے ہائے انجام اس سفینے کا ناخدا نے جسے ڈبویا ہے آہ کیا دل میں اب لہو بھی نہیں آج اشکوں کا رنگ پھیکا ہے جب بھی آنکھیں ...

مزید پڑھیے

خامشی کا تو نام ہوتا ہے

خامشی کا تو نام ہوتا ہے ورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہے عشق کو پوچھتا نہیں کوئی حسن کا احترام ہوتا ہے آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے حسن کو شرمسار کرنا ہی عشق کا انتقام ہوتا ہے اللہ اللہ یہ ناز حسن مجازؔ انتظار سلام ہوتا ہے

مزید پڑھیے

سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا

سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا عشق شادماں اپنا شوق کامراں اپنا آہ بے اثر کس کی نالہ نارسا کس کا کام بارہا آیا جذبۂ نہاں اپنا کب کیا تھا اس دل پر حسن نے کرم اتنا مہرباں اور اس درجہ کب تھا آسماں اپنا الجھنوں سے گھبرائے مے کدے میں در آئے کس قدر تن آساں ہے ذوق رائیگاں اپنا کچھ ...

مزید پڑھیے

عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا

عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا عشق کو منزل پستی سے گزر جانا تھا جلوے تھے حلقۂ سر دام نظر سے باہر میں نے ہر جلوے کو پابند نظر جانا تھا حسن کا غم بھی حسیں فکر حسیں درد حسیں ان کو ہر رنگ میں ہر طور سنور جانا تھا حسن نے شوق کے ہنگامے تو دیکھے تھے بہت عشق کے دعوئے تقدیس سے ڈر جانا ...

مزید پڑھیے

درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی

درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی ہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقی سخت جاں ہی نہیں ہم خود سر و خود دار بھی ہیں ناوک ناز خطا ہے تو خطا ہو ساقی سعئ تدبیر میں مضمر ہے اک آہ جاں سوز اس کا انعام سزا ہو کہ جزا ہو ساقی سینۂ شوق میں وہ زخم کہ لو دے اٹھے اور بھی تیز زمانے کی ہوا ہو ساقی

مزید پڑھیے

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں ہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیں تاثیر جذب شوق دکھائے ہوئے تو ہیں ہم تیرا ہر حجاب اٹھائے ہوئے تو ہیں ہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دل دیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں تیرے گناہ گار گناہ گار ہی سہی تیرے کرم کی آس لگائے ہوئے تو ہیں اللہ ...

مزید پڑھیے

آسماں گردش میں تھا ساری زمیں چکر میں تھی

آسماں گردش میں تھا ساری زمیں چکر میں تھی زلزلے کے قہر کی تصویر ہر منظر میں تھی آپسی ٹکراؤ نے آخر نمایاں کر دیا ایک چنگاری جو برسوں سے دبی پتھر میں تھی میں اکیلا مر رہا تھا گھر مرا سنسان تھا رونق خانہ رفیق زندگی دفتر میں تھی کر دیا تھا بیوگی کے کرب نے گرچہ نڈھال جلتی بجھتی آنچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4873 سے 6203