کیا تم نے کبھی زندگی کرتے ہوئے دیکھا
کیا تم نے کبھی زندگی کرتے ہوئے دیکھا میں نے تو اسے بارہا مرتے ہوئے دیکھا پانی تھا مگر اپنے ہی دریا سے جدا تھا چڑھتے ہوئے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا تم نے تو فقط اس کی روایت ہی سنی ہے ہم نے وہ زمانہ بھی گزرتے ہوئے دیکھا یاد اس کے وہ گلنار سراپے نہیں آتے اس زخم سے اس زخم کو بھرتے ...