تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں
تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں لکھا ہوا ہے ترے ہاتھ کی لکیروں میں جو ہو سکے تو مجھے بھی کہیں تلاش کرو میں کھو گیا ہوں خیالات کے جزیروں میں یہ انقلاب زمانہ نہیں تو پھر کیا ہے امیر شہر جو کل تھا وہ ہے فقیروں میں ہمیں یہ چاہیے ہشیار رہبروں سے رہیں کہ زہر بھی ہیں لگے مصلحت کے ...