قومی زبان

تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں

تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں لکھا ہوا ہے ترے ہاتھ کی لکیروں میں جو ہو سکے تو مجھے بھی کہیں تلاش کرو میں کھو گیا ہوں خیالات کے جزیروں میں یہ انقلاب زمانہ نہیں تو پھر کیا ہے امیر شہر جو کل تھا وہ ہے فقیروں میں ہمیں یہ چاہیے ہشیار رہبروں سے رہیں کہ زہر بھی ہیں لگے مصلحت کے ...

مزید پڑھیے

کس درجہ مرے شہر کی دل کش ہے فضا بھی

کس درجہ مرے شہر کی دل کش ہے فضا بھی مانوس ہر اک چیز ہے مٹی بھی ہوا بھی دیکھو تو ہر اک رنگ سے ملتا ہے مرا رنگ سوچو تو ہر اک بات ہے اوروں سے جدا بھی یوں تو مرے حالات سے واقف ہے زمانہ لیکن مجھے ملتا نہیں کچھ اپنا پتا بھی سائے کی طرح ساتھ رہا کرتا ہے اک شخص سایہ کہ ہوا کرتا ہے اپنوں سے ...

مزید پڑھیے

کچھ اس ادا سے وہ میرے دل و نظر میں رہا

کچھ اس ادا سے وہ میرے دل و نظر میں رہا بہ قید ہوش بھی میں عالم دگر میں رہا خود اپنی ذات پہ مجھ کو بھی اختیار نہ تھا تمام عمر میں اک حلقۂ اثر میں رہا وہ عشق جس کی زمانے کو بھی خبر نہ رہی ترے بچھڑنے سے رسوا نگر نگر میں رہا رہ حیات میں تیری رفاقتیں نہ سہی ترا خیال تو ہر دم مجھے سفر ...

مزید پڑھیے

کسی سے رابطہ کوئی نہیں ہے

کسی سے رابطہ کوئی نہیں ہے مجھے کیا جانتا کوئی نہیں ہے کسے آواز دوں کس کو پکاروں یہاں تو دوسرا کوئی نہیں ہے مری باتیں ہی لا یعنی ہیں گویا کہ میری مانتا کوئی نہیں ہے بظاہر دور ہیں اک دوسرے سے دلوں میں فاصلہ کوئی نہیں ہے میں اپنے حال میں جیسا ہوں خوش ہوں کسی کا آسرا کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ توانائی کہاں جو کل تلک اعضا میں تھی

وہ توانائی کہاں جو کل تلک اعضا میں تھی قحط سالی کے دنوں میں تیری یاد آتی رہی ایک بے معنی سی ساعت ایک لا یعنی گھڑی جسم کے اجڑے کھنڈر میں ایک عرصہ بن گئی ایک جھٹکا سا لگا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کی آنکھوں سے نشے کی تیغ مجھ پر گر پڑی جس پہ میرے خون کی واضح شہادت نقش تھی میرے قاتل کی ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے

خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے آئندہ لمحہ اب کے بھی یوں ہی گزر نہ جائے رسی لٹک رہی ہے گلے کو نہ بھینچ لے خنجر چمک رہا ہے بدن میں اتر نہ جائے منہ پھاڑتی ہیں گھر کی دراڑیں ادھر ادھر اک قہقہہ کہ جیسے فضا میں بکھر نہ جائے کیوں اس کے ساتھ ہی نہ رہا جائے چند روز جو آدمی کہ ...

مزید پڑھیے

ایک سوکھی ہڈیوں کا اس طرف انبار تھا

ایک سوکھی ہڈیوں کا اس طرف انبار تھا اور ادھر اس کا لچیلا گوشت اک دیوار تھا ریل کی پٹری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے آپ اپنی ذات سے اس کو بہت انکار تھا لوگ ننگا کرنے کے درپئے تھے مجھ کو اور میں بے سر و سامانیوں کے نشے میں سرشار تھا مجھ میں خود میری عدم موجودگی شامل رہی ورنہ اس ...

مزید پڑھیے

اس دشت نوردی میں جینا بہت آساں تھا

اس دشت نوردی میں جینا بہت آساں تھا ہم چاک گریباں تھے سر پر کوئی داماں تھا ہم سے بھی بہت پہلے آیا تھا یہاں کوئی جب ہم نے قدم رکھا یہ خاک داں ویراں تھا اڑتے ہوئے پھرتے تھے آوارہ غباروں سے وہ وقت تھا جب اس کے لوٹ آنے کا امکاں تھا یہ راہ طلب یارو گمراہ بھی کرتی ہے سامان اسی کا تھا جو ...

مزید پڑھیے

کون گزرا تھا محراب جاں سے ابھی خامشی شور بھرتا ہوا

کون گزرا تھا محراب جاں سے ابھی خامشی شور بھرتا ہوا دھند میں کوئی شے جوں دمکتی ہوئی اک بدن سا بدن سے ابھرتا ہوا صرف کرتی ہوئی جیسے ساعت کوئی لمحہ کوئی فراموش کرتا ہوا پھر نہ جانے کہاں ٹوٹ کر جا گرا ایک سایہ سروں سے گزرتا ہوا ایک عمر گریزاں کی مہلت بہت پھیلتا ہی گیا میں افق تا ...

مزید پڑھیے

کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ

کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ عمر بھر دیکھا جو میں نے وہ گھڑی بھر تو بھی دیکھ اک مسلسل بے وقوفی کا عمل ہے زندگی میرے حصے میں جو آیا وہ مقدر تو بھی دیکھ دوسرے کے تجربے پر ٹیڑھی بنیادیں نہ رکھ بلب کو اپنی ہتھیلی سے پچک کر تو بھی دیکھ خواہشیں کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4834 سے 6203