گرچہ میں سر سے پیر تلک نوک سنگ تھا
گرچہ میں سر سے پیر تلک نوک سنگ تھا پھر بھی وہ مجھ سے بر سر پیکار و جنگ تھا لب سل گئے تھے اپنے انا کے سوال پر گو دل ہی دل میں مجھ سے وہ میں اس سے تنگ تھا میں آ گیا الانگ کے ہر دشت ہر پہاڑ تیری صدا پہ مجھ پہ ٹھہر جانا ننگ تھا دنیا تمام آتشیں دھاروں کی زد میں تھی لیکن میں بے خطر تھا ...