قومی زبان

جب اس کے سامنے سورج ہوا ندی کیا ہے

جب اس کے سامنے سورج ہوا ندی کیا ہے ہم آدمی ہیں ہماری بساط ہی کیا ہے بچھڑ کے گھر سے یہی سوچتا ہوں میں دن رات شجر سے ٹوٹ کے پتوں کی زندگی کیا ہے جلے مگر جو نہ روشن ہوئے زمانے میں وہی چراغ سمجھتے ہیں روشنی کیا ہے بس ایک رات کا مہمان ہے پرندہ یہاں اسے پتہ ہی نہیں شاخ چاہتی کیا ...

مزید پڑھیے

کرم ہے اس کا کوئی بد دعا نہیں لگتی

کرم ہے اس کا کوئی بد دعا نہیں لگتی مرے چراغ جلیں تو ہوا نہیں لگتی تمہارے پیار کی زنجیر میں بندھا ہوں میں سزا یہ کیسی ملی ہے سزا نہیں لگتی کسی سے پیار کرو اور تجربہ کر لو یہ روگ ایسا ہے جس میں دوا نہیں لگتی اگر زمانہ ہے ناراض تو رہے ناراض ہمیں کچھ اس میں تمہاری خطا نہیں لگتی یہ ...

مزید پڑھیے

بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے

بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے ہر ایک شخص کی آہٹ کو گھر سمجھتا ہے ہر ایک در کو وہ اپنا ہی در سمجھتا ہے مگر زمانہ اسے در بہ در سمجھتا ہے پھل اور شاخ سمجھنے میں چوک جائیں مگر ہے کس جگہ کا پرندہ شجر سمجھتا ہے کچھ اس طرح سے دکھاتا ہے وہ ہنر اپنا کہ جیسے سب کو یہاں بے ہنر سمجھتا ...

مزید پڑھیے

عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے

عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے درخت نیکی بڑی خاموشی سے کرتا ہے میں اس کا دوست ہوں اچھا یہی نہیں کافی امید اور بھی کچھ دوستی سے کرتا ہے جواب دینے کو جی چاہتا نہیں اس کو سوال ویسے بڑی عاجزی سے کرتا ہے جسے پتہ ہی نہیں شاعری کا فن کیا ہے وہ کاروبار یہاں شاعری سے کرتا ہے سمندروں سے ...

مزید پڑھیے

دیکھا جو ایک شخص عجب آن بان کا

دیکھا جو ایک شخص عجب آن بان کا اک سلسلہ سا رہتا ہے ہر وقت دھیان کا بے سوچے سمجھے گھر سے جو یوں ہی نکل پڑے اب ڈھونڈتے ہیں سایہ کسی سائبان کا کوئی نہیں ہے ایسا کہ اپنا کہیں جسے کیسا طلسم ٹوٹا ہے اپنے گمان کا بستی میں ہیں پہ ایسے کہ سب سے جدا ہیں ہم اچھا تھا خبط ہم کو بھی اونچے مکان ...

مزید پڑھیے

ہو گئی شام ڈھل گیا سورج

ہو گئی شام ڈھل گیا سورج دن کو شب میں بدل گیا سورج گردش وقت کٹ گئی آخر لو گہن سے نکل گیا سورج دن بھی جیسے اداس رہتا ہے ہائے کتنا بدل گیا سورج ہم نے جس کوچے میں گزاری شب اس جگہ سر کے بل گیا سورج اب بہت ہو چکے اٹھو نادرؔ چڑھ گیا دن نکل گیا سورج

مزید پڑھیے

سمند شوق پہ خط اس کا تازیانہ ہوا

سمند شوق پہ خط اس کا تازیانہ ہوا ملے ہوئے بھی تو اس سے ہمیں زمانہ ہوا یہ سوچتا ہوں کہ آخر وہ مصلحت کیا تھی کہ جس سے ترک تعلق کا اک بہانہ ہوا اب آ بھی جاؤ کہ اک دوسرے میں گم ہو جائیں وصال و ہجر کا قصہ بہت پرانا ہوا وہ جس سے ملنے کی دل میں تڑپ زیادہ ہے ہمارا اس سے تعارف بھی غائبانہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال سے کوئی جو با خبر رہتا

ہمارے حال سے کوئی جو با خبر رہتا خیال اس کا ہمیں بھی تو عمر بھر رہتا جسے بھی خواہش دیوار و در ہو صحرا میں وہ کم نصیب تو اچھا تھا اپنے گھر رہتا ہوا سے ٹوٹ کے گرنا مرا مقدر تھا کہ زرد پتا تھا کیونکر میں شاخ پر رہتا جو دیکھتا ہوں زمانے کی نا شناسی کو یہ سوچتا ہوں کہ اچھا تھا بے ہنر ...

مزید پڑھیے

ابا کے نام

اس لمحے کہ تم میرے ساتھ ہو خدا میرے نزدیک ہے میں اس کے قدموں پر سر رکھ دیتا ہوں اپنی کمیوں، بدنصیبوں اور بےوقوفیوں کو بھول کر اس کے شفقت بھرے ہاتھوں کا لمس اپنی پیٹھ پر محسوس کرتا ہوں دیکھتے دیکھتے ہرا بھرا درخت بن جاتا ہوں جیسے میں ایک نہیں، کئی زندگی جی رہا ہوں جیسے میں ایک ...

مزید پڑھیے

کسے دماغ کہ الجھے طلسم ذات کے ساتھ

کسے دماغ کہ الجھے طلسم ذات کے ساتھ الجھ رہا ہوں ابھی تیری کائنات کے ساتھ میں دید بان ازل سے جدھر بھی دیکھتا تھا شکستہ جام پڑا ہے عجائبات کے ساتھ نکل گیا تھا میں اک روز خاک داں کی طرف گزر رہی ہے شب و روز حادثات کے ساتھ میں ڈوب ڈوب گیا بے نشاں بھنور میں کہیں خلا میں رقص کناں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4832 سے 6203