قومی زبان

مختصر شب کی طوالت نہیں کی جا سکتی

مختصر شب کی طوالت نہیں کی جا سکتی کم کسی طور اذیت نہیں کی جا سکتی ہم نے تو ایک پری وش سے محبت کی ہے لوگ کہتے ہیں محبت نہیں کی جا سکتی لاکھ ہوتے ہوں سبب ترک سکونت کے مگر شہر جاں سے کبھی ہجرت نہیں کی جا سکتی میرے نادان مت اس کو مری فن کاری سمجھ خود پہ طاری کبھی وحشت نہیں کی جا ...

مزید پڑھیے

جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا

جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا تب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا ظالم کے ستم سے ہو اگر خلق خدا تنگ دنیا اسے کیا مار گرایا نہیں جاتا پیران عجم کیجیے تدبیر ابھی آپ دل سے تو مرے کرب کا سایا نہیں جاتا مقدور اگر ہو تو وہ پہنچانا سہولت جمہور کو انگلی پہ نچایا نہیں جاتا حالات بدل ...

مزید پڑھیے

روزانہ کوئی کاسہ گدائی کا اٹھا کر

روزانہ کوئی کاسہ گدائی کا اٹھا کر کوچے سے گزر جاتا ہے آواز لگا کر یہ کیسا ستم ہے کہ دکھائی نہ دے مجھ کو وہ شخص جو نکلا نہیں سینے میں سما کر دل کس کی تسلی کے لیے جلنے لگا تھا دل کس کے لیے راکھ ہوا خود کو جلا کر اک آئنہ بردار کے ماتھے پہ لکھا تھا سچ بول مگر جھوٹ کی شیرینی ملا ...

مزید پڑھیے

خبر نہیں کہ سفر ہے کہ ہے قیام ابھی

خبر نہیں کہ سفر ہے کہ ہے قیام ابھی طلسم شہر میں کھوئے ہیں خاص و عام ابھی صدا بھی دے گا کبھی تو سکوت کا صحرا کسی کو ہونے تو دو خود سے ہم کلام ابھی جو دیکھیے تو زمانہ ہے تیز رو کتنا طلوع صبح ابھی ہے تو وقت شام ابھی وہ قحط آب ہے دریا بھی سارے خشک ہوئے رواں جو ابر ہے کرتا نہیں قیام ...

مزید پڑھیے

میں کہ خود اپنے خیالات کا زندانی ہوں

میں کہ خود اپنے خیالات کا زندانی ہوں تیری ہر بات کو کس طرح گوارا کر لوں صحرا صحرا جو پھرا کرتا ہے تیری خاطر ہائے وہ شخص جسے کہتی ہے دنیا مجنوں دل نے گو لاکھ یہ چاہا کہ بھلا دوں تجھ کو یاد نے تیری مگر آج بھی مارا شب خوں کس خرابے میں ہمیں لائی ہے وحشت کہ جہاں کوئی دیوار نہ در ہے نہ ...

مزید پڑھیے

نگاہ کوئی تو طوفاں میں مہربان سی ہے

نگاہ کوئی تو طوفاں میں مہربان سی ہے ہر ایک موج سمندر کی پائیدان سی ہے ہر ایک شخص کو گاہک سمجھ کے خوش رکھنا یہ زندگی بھی ہماری کوئی دکان سی ہے میں آسماں کی طرح مدتوں سے ٹھہرا ہوں بدن میں پھر بھی زمیں جیسی کچھ تھکان سی ہے دکھوں کا کیا ہے یہ آتے ہیں تیر کی مانند خوشی ہمیشہ مرے ...

مزید پڑھیے

سفر میں یوں تو بلائیں بھی کام کرتی ہیں

سفر میں یوں تو بلائیں بھی کام کرتی ہیں مگر کسی کی دعائیں بھی کام کرتی ہیں مشاعروں میں فقط شاعری نہیں چلتی مشاعروں میں ادائیں بھی کام کرتی ہیں چراغ ہوں نہ کوئی پھول ہوں یہاں پھر بھی مرے خلاف ہوائیں بھی کام کرتی ہیں کسی کے رونے سے میں بھی بکھرنے لگتا ہوں کہ آنسوؤں کی صدائیں بھی ...

مزید پڑھیے

وہ مسکرا کے دل و جاں پہ وار کرتا ہے

وہ مسکرا کے دل و جاں پہ وار کرتا ہے کہ ایک تیر سے دو دو شکار کرتا ہے میں اس کو دوست سمجھنے لگا مگر مجھ کو وہ دشمنوں میں ابھی تک شمار کرتا ہے خیال میں بھی نہ آئے جو میرے دشمن کے وہ کام میرے لئے میرا یار کرتا ہے اس آدمی سے تو ہر وقت ہوشیار رہو جو دوسروں سے تمہیں ہوشیار کرتا ہے بس ...

مزید پڑھیے

میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے

میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے پرتو جہاں کہیں ہے تری روشنی کا ہے پنچھی درخت پھول تو منہ ڈھک کے سو گئے جنگل میں راج پاٹ بس اب چاندنی کا ہے لٹنے کا ڈر سہی پہ محبت کی راہ میں جانا تو اسی گلی سے ہر اک آدمی کا ہے برسوں پرانا زخم ہے ایسا ہرا مگر دیکھے طبیب تو وہ کہے آج ہی کا ...

مزید پڑھیے

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے وقت کے ساتھ کمی پیار میں آ جاتی ہے بس کہیں چھور سمندر کا نظر آ جائے کوئی طاقت مری پتوار میں آ جاتی ہے وہ گزرتا ہے تو کھلتے ہیں دریچے گھر کے اک چمک سی در و دیوار میں آ جاتی ہے ٹوٹے گھنگھرو کی جو آواز ہوا کرتی ہے وہ کھنک کیوں مری گفتار میں آ جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4831 سے 6203