قومی زبان

ایک اک سانس میں صدیوں کا سفر کاٹتے ہیں

ایک اک سانس میں صدیوں کا سفر کاٹتے ہیں خوف کے شہر میں رہتے ہیں سو ڈر کاٹتے ہیں پہلے بھر لیتے ہیں کچھ رنگ تمہارے اس میں اور پھر ہم اسی تصویر کا سر کاٹتے ہیں خواب مٹھی میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا ہم وہی لوگ ہیں جو دھوپ کے پر کاٹتے ہیں سونپ کر اس کو ترے درد کے سارے موسم پھر اسی لمحے ...

مزید پڑھیے

اتر کر پانیوں میں چاند محو رقص رہتا ہے

اتر کر پانیوں میں چاند محو رقص رہتا ہے مری آنکھوں میں کچھ اس طور کوئی شخص رہتا ہے عجب حیرت ہے اکثر دیکھتا ہے میرے چہرے کو یہ کس نا آشنا کا آئنے میں عکس رہتا ہے مری بستی کا کوئی گھر بھی گھر جیسا نہیں لگتا کہیں تعمیر بام و در میں کوئی نقص رہتا ہے جمی ہے گرد آنکھوں میں کئی گمنام ...

مزید پڑھیے

افسردگیٔ درد فراقت ہے سحر تک

افسردگیٔ درد فراقت ہے سحر تک یہ شام تو اک شام قیامت ہے سحر تک کوئی تو اندھیروں میں اجالوں کا سبب ہو مانا کہ چراغوں کی حقیقت ہے سحر تک اب ہم پہ جو آئی تو کسی طور نہ گزری سنتے تھے شب غم کی طوالت ہے سحر تک پھر راکھ بھی ہو جائیں تو ہو جائیں بلا سے آنکھوں کے حوالوں کی ضرورت ہے سحر ...

مزید پڑھیے

دل کچھ دیر مچلتا ہے پھر یادوں میں یوں کھو جاتا ہے

دل کچھ دیر مچلتا ہے پھر یادوں میں یوں کھو جاتا ہے جیسے کوئی ضدی بچہ روتے روتے سو جاتا ہے سرد ہوا یا ٹوٹا تاؤ پوری رات ادھورا چاند میرے آنگن کی مٹی کو جانے کون بھگو جاتا ہے اک اک کر کے دھوپ کے سارے سرخ پرندے مر جاتے ہیں ریت کے زرد سمندر پر جب سورج پاؤں دھو جاتا ہے تجھ سے بچھڑ کر ...

مزید پڑھیے

کوئی ایسی بات ہے جس کے ڈر سے باہر رہتے ہیں

کوئی ایسی بات ہے جس کے ڈر سے باہر رہتے ہیں ہم جو اتنی رات گئے تک گھر سے باہر رہتے ہیں پتھر جیسی آنکھوں میں سورج کے خواب لگاتے ہیں اور پھر ہم اس خواب کے ہر منظر سے باہر رہتے ہیں جب تک رہتے ہیں آنگن میں ہنگامہ تنہائی کے خاموشی کے سائے بام و در سے باہر رہتے ہیں جب سے بے چہروں کی ...

مزید پڑھیے

کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ

کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ کہیں مدت ہوئی اس کو گنوایا تھا مگر اب تک مری آنکھوں میں ہے ان بے سر و سامانیوں کا دکھ تو کیا تو بھی مری اجڑی ہوئی بستی سے گزرا ہے تو کیا تو نے بھی دیکھا ہے مری ویرانیوں کا دکھ شکست غم کے لمحوں میں ...

مزید پڑھیے

رہ گیا دیدۂ پر آب کا ساماں ہو کر

رہ گیا دیدۂ پر آب کا ساماں ہو کر وہ جو رہتا تھا مرے ساتھ مری جاں ہو کر جانے کس شوخ کے آنچل نے شرارت کی ہے چاند پھرتا ہے ستاروں میں پریشاں ہو کر آتے جاتے ہوئے دستک کا تکلف کیسا اپنے گھر میں بھی کوئی آتا ہے مہماں ہو کر اب تو مجھ کو بھی نہیں ملتی مری کوئی خبر کتنا گمنام ہوا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

ہم اے غم حیات نہ جانے کہاں رہے

ہم اے غم حیات نہ جانے کہاں رہے جب حسن اتفاق سے وہ مہرباں رہے جس وقت چھڑ گئی ہے نگار سحر کی بات تارے شب فراق مرے ہم زباں رہے کیا اہتمام حسن چمن کر سکے بیاں جب خود دل بہار میں پیہم خزاں رہے پھر زندگی کرے نہ کوئی اور آرزو گر اس کے ساتھ ایک غم جاوداں رہے یا منزلوں کے ذکر سے تم نے دیا ...

مزید پڑھیے

پھونک دیں گے مرے اندر کے اجالے مجھ کو

پھونک دیں گے مرے اندر کے اجالے مجھ کو کاش دشمن مرا قندیل بنا لے مجھ کو ایک سایہ ہوں میں حالات کی دیوار میں قید کوئی سورج کی کرن آ کے نکالے مجھ کو اپنی ہستی کا کچھ احساس تو ہو جائے مجھے اور نہیں کچھ تو کوئی مار ہی ڈالے مجھ کو میں سمندر ہوں کہیں ڈوب نہ جاؤں خود میں اب کوئی موج ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے

ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے کسے چراغ بنا دے کسے ہوا کر دے مرے مزاج کے کوفے پہ جس کا قبضہ ہے خبر نہیں کہ وہ کب مجھ کو کربلا کر دے یہ کون شخص ہے اس لفظ جیسا لگتا ہے مرے وجود کے مطلب کو جو ادا کر دے

مزید پڑھیے
صفحہ 4735 سے 6203