میں اس کی بات کے لہجے کا اعتبار کروں
میں اس کی بات کے لہجے کا اعتبار کروں کروں کہ اس کا نہ میں آج انتظار کروں میں صرف سایہ ہوں اپنا مگر یہ ضد ہے مجھے کہ اپنے آپ کو خود سے الگ شمار کروں عجب مزاج ہے اس کا بھی چاہتا ہے کہ میں بطور وضع فقط خود کو اختیار کروں میں اک اتھاہ سمندر ہوں اس خیال میں غرق کہ ڈوب جاؤں میں خود میں ...