قومی زبان

رات کی رات پڑاؤ کا میلہ کوچ کی دھول سویرے

رات کی رات پڑاؤ کا میلہ کوچ کی دھول سویرے محل مکان کٹیا چھپر سب بنجاروں کے ڈیرے سورج ڈھلتے ہی گلیوں میں فتنے جاگ اٹھتے ہیں رین نہیں جب اپنے بس میں کیسے رین بسیرے وہ تو ہم سے سادہ دلوں کا حشر یہی ہونا تھا ورنہ تم سے ترک وفا کے حیلے تھے بہتیرے جان بچے گی تو پہنچیں گے داد رسوں کے ...

مزید پڑھیے

جتنے تھے رنگ حسن بیاں کے بگڑ گئے

جتنے تھے رنگ حسن بیاں کے بگڑ گئے لفظوں کے باغ شہر کی صورت اجڑ گئے اس آندھیوں کی فصل میں ہے کس بنا پہ ناز تم کیا ہو آسمانوں کے خیمے اکھڑ گئے یہ معجزہ حیات کا معمول بن گیا اتنی دفعہ چراغ ہواؤں سے لڑ گئے قطرے لہو کے جن کو سمجھتے ہو بے نمو اکثر زمین شور میں بھی جڑ پکڑ گئے گردن ...

مزید پڑھیے

تمیز اپنے میں غیر میں کیا تمہیں جو اپنا نہ کر سکے ہم

تمیز اپنے میں غیر میں کیا تمہیں جو اپنا نہ کر سکے ہم ہر ایک محفل ہوئی گوارا تمہاری محفل سے کیا اٹھے ہم سحر پشیمان آرزو ہیں چراغ شب تھے سو جل بجھے ہم خراج اشکوں کا خون دل سے جو ہم کو لینا تھا لے چکے ہم نہ شمع کانپی نہ گیت ڈوبے اٹھے جو ہم ان کی انجمن سے چلو بس اچھا ہوا کہ ایسے کہاں ...

مزید پڑھیے

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے پتھر سے میرے خواب کا پیکر کوئی تو آئے دریا بھی ہو تو کیسے ڈبو دیں زمین کو پلکوں کے پار غم کا سمندر کوئی تو آئے چوکھٹ سے حال پوچھا تو بازار سے سنا اک دن غریب خانے کے اندر کوئی تو آئے جو زخم دوستوں نے دیے ہیں وہ چھپ تو جائیں پر دشمنوں کی سمت سے ...

مزید پڑھیے

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا میرے ایماں میں مرے وہم و گماں میں آ جا موند ان آنکھوں کو صاحب نظراں میں آ جا حد نظارگیٔ کون و مکاں میں آ جا آیت رحمت یزداں کی طرح دل میں اتر ایک اک لفظ میں ایک ایک بیاں میں آ جا تجھے سینے سے لگا لوں تجھے دل میں رکھ لوں درد کی چھاؤں میں زخموں کی ...

مزید پڑھیے

پس‌ ترک عشق بھی عمر بھر طرف مژہ پہ تری رہی

پس‌ ترک عشق بھی عمر بھر طرف مژہ پہ تری رہی مری کشت جاں بھی عجیب ہے کہ خزاں کے ساتھ ہری رہی کئی بار دور کساد میں گرے مہر و ماہ کے دام بھی مگر ایک قیمت جنس دل جو کھری رہی تو کھری رہی نہ وہ رسم پردگیٔ وفا نہ چھپا چھپا سا پیام ہے نہ شمیم و گل سے کلام ہے نہ صبا کی نامہ بری رہی میں تہی ...

مزید پڑھیے

مٹا کے انجمن آرزو صدا دی ہے

مٹا کے انجمن آرزو صدا دی ہے چلے بھی آؤ کہ ہر روشنی بجھا دی ہے گر اتفاق سے پایا ہے قطرۂ شبنم سمندروں کو مری پیاس نے دعا دی ہے ہجوم راہ رواں روند کر گزرتا ہے بساط دل کی کہاں ہم نے یہ بچھا دی ہے دلوں کا خوں کرو سالم رکھو گریباں کو جنوں کی رسم زمانہ ہوا اٹھا دی ہے نہ مڑ کے دیکھے گی ...

مزید پڑھیے

داد گر

میں جانتا ہوں کہ آنسو فنا کا لمحہ ہے اسے تری نگۂ جاوداں سے ربط نہیں میں جانتا ہوں کہ تو بھی شکار دوراں ہے متاع جاں کے سوا اس قمار خانے میں ہر ایک نقد نفس ہار کر پشیماں ہے مگر یہ ربط ہے کیسا یہ کیا تعلق ہے کہ جب بھی ہار کے اٹھا جہاں کی محفل سے امنگ ہنس کے کلیجے پہ چوٹ کھانے کی ہجوم ...

مزید پڑھیے

مکان خالی ہے

وہ جا چکا ہے ہمیں نے اسے نکالا ہے یہ کیا ہوا کہ اک اک چیز اٹھ گئی اس کی وہ ایک کونے میں رہتا تھا پر گیا جب سے ہر ایک کونے میں رہتا دکھائی دیتا ہے چمک رہی ہیں در و بام اس کی تحریریں ٹہل رہی ہیں صدائیں یہاں وہاں اس کی کہیں پہ نقش ہے اس کی نگاہ کا پرتو کھدی ہوئی ہے کہیں اس کے پاؤں کی ...

مزید پڑھیے

نالۂ بے آسماں

میں کیسے بتاؤں تم بتاؤ کس طرح یہ دن گزر رہے ہیں توہین حقارتیں تنفر کس کس سے نباہ کر رہا ہوں یوں فیض خرد سے بہرہ ور ہوں ہر ایک فریب وہم تج کے اس رات یہ سوچنے لگا ہوں میں معتقد پناہ ہوتا اتنا تو نہ رو سیاہ ہوتا شکر اور شکایتیں دعائیں میرے لیے کوئی آستانہ تاثیر دہ فغاں نہیں ہے جز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4730 سے 6203