قومی زبان

گر مجھے میری ذات مل جائے

گر مجھے میری ذات مل جائے اک نئی کائنات مل جائے خواب ہے اس سے بات کرنے کا کوئی خوابوں کی رات مل جائے غم زدہ لوگ سوچتے ہوں گے زندگی سے نجات مل جائے کوئی کچھ بھی بدل نہیں سکتا جس کو جیسی حیات مل جائے پوچھنا چاند کا پتا آذرؔ جب اکیلے میں رات مل جائے

مزید پڑھیے

جب کوئی ٹیس دل دکھاتی ہے

جب کوئی ٹیس دل دکھاتی ہے نبض کچھ دیر رک سی جاتی ہے آج آوارگی سے کہہ دوں گا ایک چوکھٹ مجھے بلاتی ہے گھپ اندھیرے کا فائدہ لے کر اوس پھولوں پہ بیٹھ جاتی ہے کل تلک تو ورق ہی اڑتے تھے اب ہوا حرف بھی اڑاتی ہے جاگتے ہیں سبھی شجر آذرؔ دشت میں کس کو نیند آتی ہے

مزید پڑھیے

پاؤں میرا پھر پڑا ہے دشت میں

پاؤں میرا پھر پڑا ہے دشت میں وہ ہی آوارہ ہوا ہے دشت میں اب مری تنہائی کم ہو جائے گی اک بگولہ مل گیا ہے دشت میں بستیوں سے بھی زیادہ شور ہے کون اتنا چیختا ہے دشت میں کس طرح خود کو بچائے گا کوئی ایک نادیدہ بلا ہے دشت میں خاک اور کچھ زرد پتوں کے سوا تجھ کو آذرؔ کیا ملا ہے دشت میں

مزید پڑھیے

بے خودی ساتھ ہے مزے میں ہوں

بے خودی ساتھ ہے مزے میں ہوں اپنی ہی ذات کے نشے میں ہوں عکس جیسے ہو کوئی دریا میں ایسے پانی کے بلبلے میں ہوں تو بھلے میرا اعتبار نہ کر زندگی میں ترے کہے میں ہوں کوئی منزل کبھی نہیں آئی راستے میں تھا راستے میں ہوں میری وسعت عجیب ہے آذرؔ پھیل کر بھی میں دائرے میں ہوں

مزید پڑھیے

دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

دل میں دل دار نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا ادھر ادھر میں دواں تھا مجھے معلوم نہ تھا سر بسر انفس و آفاق میں ہے اس کا ظہور پردہ اس رخ کا عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا سہل سمجھا تھا میں حالاں کہ یہ عشق ظالم وقف خونین جگراں کا تھا مجھے معلوم نہ تھا بعد مدت دل گمراہ سے میں نے جو ملا کہا رو ...

مزید پڑھیے

دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہو

دل کو لے جی کو اب لبھاتے ہو اس لیے بن بنا کے آتے ہو عشق بن ہم تو کچھ گنہ نہ کیا بے گناہوں کو کیوں ستاتے ہو کوئی ایسا معاملہ نہ سنا نہ تو آتے ہو نا بلاتے ہو باوجود اس جفا کے پیارے تم کس قدر میرے من کو بھاتے ہو ہم تو اول سے مست ہیں آگاہؔ پھر ترانے یہ کیوں سناتے ہو

مزید پڑھیے

محو فریاد ہو گیا ہے دل

محو فریاد ہو گیا ہے دل آہ برباد ہو گیا ہے دل سینہ کادی میں اپنے ناخن سے رشک فرہاد ہو گیا ہے دل دیکھتے دیکھتے ستم تیرا سخت ناشاد ہو گیا ہے دل کرتے ہی کرتے تیرے قد کا خیال مثل شمشاد ہو گیا ہے دل ہو کے پابند تیرے کاکل سے سر سے آزاد ہو گیا ہے دل الفت اہل بیت سے آگاہؔ حیدرآباد ہو ...

مزید پڑھیے

شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہوا

شاہد غیب ہویدا نہ ہوا تھا سو ہوا حسن پر آپ نے شیدا نہ ہوا تھا سو ہوا غمزۂ شوخ سیہ مست ترا مژگاں سے قتل عاشق پہ صف آرا نہ ہوا تھا سو ہوا ہنس کے وہ غنچہ دہن میری جگر خواری پر کہہ دیا تیرا دلاسا نہ ہوا تھا سو ہوا رشتۂ صاف نگہ میں ہو مسلسل آنسو سینۂ یار میں مالا نہ ہوا تھا سو ہوا سر ...

مزید پڑھیے

کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوں

کیوں کر نہ ایسے جینے سے یا رب ملول ہوں جب اس طرح عدم کا بھی میں ناقبول ہوں کیا خوب میرے بخت کی منڈوے چڑھی ہے بیل نا باغ نہ بہار نہ کانٹا نا پھول ہوں اس عشق میں ہی کٹ گئی سب عمر پر ہنوز نا لائق فراق نا باب وصول ہوں طالع کی میرے دیکھیے پھولی ہے کیا بہار انواع خار خار سے میں جوں ببول ...

مزید پڑھیے

رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگا

رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگا اے ناگ ترے ہاتھ یہ کیا خوب من لگا دیکھا ہے جن نے روئے دل افروز کو ترے بے شک نظر میں باغ ارم اس کی بن لگا سرسبز نت رکھیں گے انہیں میرے اشک و آہ اے نو بہار حسن جو چاہے چمن لگا سینہ سپر کر آؤں گا کوچے میں میں ترے گرچہ رقیب بیٹھے ہیں واں تن سے تن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4684 سے 6203