مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں
مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں ہے یہ بے خبری کہ خبر ہی نہیں وہ نقاب اٹھا کہ اٹھا ہی نہیں مرے حال پہ چھوڑ طبیب مجھے کہ عذاب ہے مری زیست مجھے میرا مرنا ہی میرے لیے ہے شفا میرے درد کی کوئی دوا ہی نہیں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھو گئے ہمیں ہوا کیا اور کیا ہو ...