قومی زبان

مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں

مجھے جلووں کی اس کے تمیز ہو کیا میرے ہوش و حواس بچا ہی نہیں ہے یہ بے خبری کہ خبر ہی نہیں وہ نقاب اٹھا کہ اٹھا ہی نہیں مرے حال پہ چھوڑ طبیب مجھے کہ عذاب ہے مری زیست مجھے میرا مرنا ہی میرے لیے ہے شفا میرے درد کی کوئی دوا ہی نہیں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھو گئے ہمیں ہوا کیا اور کیا ہو ...

مزید پڑھیے

یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی

یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی پھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالی سر رکھ کے ہتھیلی پر اور لخت جگر چن کر سرکار میں لائے ہیں ارباب وفا ڈالی رویا کہوں میں اس کو یا مژدۂ بیداری غل ہے کہ نقاب اس نے چہرے سے اٹھا ڈالی اللہ رے تصور کی نقاشی و نیرنگی جب بن گئی اک صورت اک شکل مٹا ...

مزید پڑھیے

کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو

کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو یار کی خاک آستاں تاج سر نیاز ہو ہم کو بھی پائمال کر عمر تری دراز ہو مست خرام ناز ادھر مشق خرام ناز ہو چشم حقیقت آشنا دیکھے جو حسن کی کتاب دفتر صد حدیث راز ہر ورق مجاز ہو سامنے روئے یار ہو سجدے میں ہو سر نیاز یونہی حریم ناز میں آٹھوں پہر نماز ...

مزید پڑھیے

سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں

سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں سفینہ جس کا ہے طوفاں وہ ناخدا ہوں میں خود اپنے جلوۂ ہستی کا مبتلا ہوں میں نہ مدعی ہوں کسی کا نہ مدعا ہوں میں کچھ آگے عالم ہستی سے گونجتا ہوں میں کہ دل سے ٹوٹے ہوئے ساز کی صدا ہوں میں پڑا ہوا ہوں جہاں جس طرح پڑا ہوں میں جو تیرے در سے نہ اٹھے ...

مزید پڑھیے

غمزہ پیکان ہوا جاتا ہے

غمزہ پیکان ہوا جاتا ہے دل کا ارمان ہوا جاتا ہے دیکھ کر الجھی ہوئی زلف ان کی دل پریشان ہوا جاتا ہے تیری وحشت کی بدولت اے دل گھر بیابان ہوا جاتا ہے ساز و ساماں کا نہ ہونا ہی مجھے ساز و سامان ہوا جاتا ہے مشکل آسان ہوئی جاتی ہے کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل سے جاتے ہیں مرے صبر و ...

مزید پڑھیے

میں یار کا جلوا ہوں

میں یار کا جلوا ہوں یا دیدۂ موسیٰ ہوں قطرہ ہوں نہ دریا ہوں بستی ہوں نہ صحرا ہوں جینا مرا مرنا ہے مرنے کو ترستا ہوں اپنی ہی امیدوں کا بگڑا ہوا نقشا ہوں ارمانوں کا گہوارا حسرت کا جنازا ہوں اس عالم ہستی میں یوں ہوں کہ میں گویا ہوں زندہ ہوں مگر بیدمؔ اک طرفہ تماشا ہوں

مزید پڑھیے

جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیا

جستجو کرتے ہی کرتے کھو گیا ان کو جب پایا تو خود گم ہو گیا کیا خبر یاران رفتہ کی ملے پھر نہ آیا اس گلی میں جو گیا جب اٹھایا اس نے اپنی بزم سے بخت جاگے پاؤں میرا سو گیا مجھ کو ہے کھوئے ہوئے دل کی تلاش اور وہ کہتے ہیں کہ جانے دو گیا خیر ہے کیوں اس قدر بیتاب ہیں حضرت دل آپ کو کیا ہو ...

مزید پڑھیے

پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہو

پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہو نظارہ گاہ میں اثر ماسوا نہ ہو مانا مری قبول نہیں ہے دعا نہ ہو اتنا ہی ہو کہ اس پہ اثر غیر کا نہ ہو کیوں کر کہوں کہ پاس انہیں غیر کا نہ ہو جو غصے میں بھی کہتے ہیں تیرا برا نہ ہو اس پردے میں تو کتنے گریبان چاک ہیں وہ بے حجاب ہوں تو خدا جانے کیا نہ ...

مزید پڑھیے

نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے

نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہے تری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہے ترے اک نہ ہونے سے ساقیا نہ وہ مے نہ شیشہ و جام ہے نہ وہ صبح اب مری صبح ہے نہ وہ شام اب مری شام ہے نہ تو چکھنا جس کا عذاب ہے نہ تو پینا جس کا حرام ہے سر بزم ساقی نے دی وہ مے کہ سرور جس کا ...

مزید پڑھیے

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے ہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دے دنیائے حسن و عشق مری کرنا ہے تو یوں کامل کر دے اپنے جلوے میری حیرت نظارے میں شامل کر دے یاں طور و کلیم نہیں نہ سہی میں حاضر ہوں لے پھونک مجھے پردے کو اٹھا دے مکھڑے سے برباد سکون دل کر دے گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4666 سے 6203