قومی زبان

اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے

اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے آدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائے تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے او نمک پاش تجھے اپنی ملاحت کی قسم بات تو جب ہے کہ ہر زخم نمک داں ہو جائے دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے کہ مجھے شکوۂ کوتاہئ ...

مزید پڑھیے

دل لیا جان لی نہیں جاتی

دل لیا جان لی نہیں جاتی آپ کی دل لگی نہیں جاتی سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا اک مری بیکسی نہیں جاتی کیے کہہ دوں کہ غیر سے ملئے ان کہی تو کہی نہیں جاتی خود کہانی فراق کی چھیڑی خود کہا بس سنی نہیں جاتی خشک دکھلاتی ہے زباں تلوار کیوں مرا خون پی نہیں جاتی لاکھوں ارمان دینے والوں ...

مزید پڑھیے

یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارک

یہ خسروی و شوکت شاہانہ مبارک یہ قصر یہ خدام یہ کاشانہ مبارک مستوں کو مبارک در مے خانہ کے سجدے مے خانہ تجھے مرشد مے خانہ مبارک اے چشم تمنا تری امید بر آئے اٹھتا ہے نقاب رخ جانانہ مبارک بلبل کو مبارک ہو ہوائے گل و گلشن پروانے کو سوز دل پروانہ مبارک لو اٹھ گئے سب جلوہ گاہ ناز کے ...

مزید پڑھیے

کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا

کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گا خیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گا میں زخود رفتہ ہوا سنتے ہی جانے کی خبر پہلے میں آپ میں آ لوں تو چلے جائیے گا راستہ گھیرے ہیں ارمان و قلق حسرت و یاس میں ذرا بھیڑ ہٹا لوں تو چلے جائیے گا پیار کر لوں رخ روشن کی بلائیں لے لوں قدم آنکھوں سے لگا ...

مزید پڑھیے

نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہ

نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہ جہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہ دل آزاد کو وحشت نے بخشا ہے وہ کاشانہ کہ اک در جانب کعبہ ہے اک در سوئے بت خانہ بنائے میکدہ ڈالی جو تو نے پیر مے خانہ تو کعبہ ہی رہا کعبہ نہ پھر بت خانہ بت خانہ کہاں کا طور مشتاق لقا وہ آنکھ پیدا کر کہ ذرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4667 سے 6203