قومی زبان

ظاہر مری شکست کے آثار بھی نہیں

ظاہر مری شکست کے آثار بھی نہیں مجھ کو یقین فتح کا اس بار بھی نہیں قید مکاں سے دیکھیے کب تک رہائی ہو اب تک تو بد گماں در و دیوار بھی نہیں کس سحر کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں ہم آنکھیں بھی ہیں کھلی ہوئی بیدار بھی نہیں جو کچھ کہ دل میں ہو بھری محفل میں کہہ سکے ہر شخص میں یہ جرأت اظہار ...

مزید پڑھیے

کسے خبر ہے میں دل سے کہ جاں سے گزروں گا

کسے خبر ہے میں دل سے کہ جاں سے گزروں گا جو بار بار صف دشمناں سے گزروں گا یقین بھی تجھے آئے گا میری ہستی پر یہی نہیں کہ میں تیرے گماں سے گزروں گا ہر ایک شے مری جانب ہی ملتفت ہوگی میں تیرے ساتھ اگر شہر جاں سے گزروں گا اندھیری رات کا مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں کئی چراغ جلیں گے جہاں سے ...

مزید پڑھیے

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل لفظوں کے پھولوں پہ نہ جا دیکھ سروں پر چلتے ہل دنیا برف کا تودا ہے جتنا جل سکتا ہے جل غم کی نہیں آواز کوئی کاغذ کالے کرتا چل بن کے لکیریں ابھرے ہیں ماتھے پر راہوں کے بل میں نے تیرا ساتھ دیا میرے منہ پر کالک مل آس کے پھول کھلے ...

مزید پڑھیے

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا آپ تو اک بات کہہ کر چل دیے رات بھر بستر مرا جلتا رہا ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوئے دل ہمارا پھولتا پھلتا رہا زندگی کی آس بھی کیا آس ہے موج دریا پر دیا جلتا رہا اک نظر تنکا بنی کچھ اس طرح دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا یہ نشاں ...

مزید پڑھیے

دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے

دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغر اس پر یہ ستم جرأت انکار نہیں ہے کچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاں کچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے دل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میں بیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے ہم اس سے متاع دل و جاں ...

مزید پڑھیے

وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا

وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا تو جہاں آخری پردا ہوگا منزلیں راستہ بن جاتی ہیں ڈھونڈنے والوں نے دیکھا ہوگا سائے میں بیٹھے ہوئے سوچتے ہیں کون اس دھوپ میں چلتا ہوگا تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں ہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا ابھی دل پر ہیں جہاں کی نظریں آئنہ اور بھی دھندلا ہوگا راز سر ...

مزید پڑھیے

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے بہت روئے مگر رونے نہ پائے کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں مسافر رات بھر سونے نہ پائے جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے

مزید پڑھیے

مرحلے زیست کے آسان ہوئے

مرحلے زیست کے آسان ہوئے شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے آس لگاؤ پہ ہر اک شخص سے لاگ تھی نئی بات کہ حیران ہوئے وہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف حادثے اب مرے ارمان ہوئے آپ کو ہم سے شکایت کیسی ہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے دل وارفتہ کی باتیں باقیؔ یاد کر کر کے پشیمان ہوئے

مزید پڑھیے

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے وہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگی ہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے کسی مقام تمنا سے جب بھی پلٹے ہیں ہمارے سامنے اپنے ہی نقش پا آئے نمو کے بوجھ سے شاخیں نہ ٹوٹ جائیں کہیں تم آؤ تو کوئی غنچہ کھلے صبا آئے یہ دل کی ...

مزید پڑھیے

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں قافلہ آج کہاں ٹھہرے گا کیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں بعض اوقات ہوا کے جھونکے لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں دل میں جب بات نہیں رہ سکتی کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں ایک دیوار اٹھانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4662 سے 6203