قومی زبان

مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا کام دنیا کا ہے تیر اندازی ہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا سنگ بنیادی ہیں ہم اس گھر کا جو کسی طرح نہ تعمیر ہوا سفر شوق کا حاصل معلوم راستہ پاؤں کی زنجیر ہوا عمر بھر جس کی شکایت کی ہے دل اسی آگ سے اکسیر ہوا کس سے پوچھیں کہ وہ انداز ...

مزید پڑھیے

اعتبار نظر کریں کیسے

اعتبار نظر کریں کیسے ہم ہوا میں بسر کریں کیسے تیرے غم کے ہزار پہلو ہیں بات ہم مختصر کریں کیسے رخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے گرد بن کر سفر کریں کیسے خود سے آگے قدم نہیں جاتا مرحلہ دل کا سر کریں کیسے ساری دنیا کو ہے خبر باقیؔ خود کو اپنی خبر کریں کیسے

مزید پڑھیے

صبح کا بھید ملا کیا ہم کو

صبح کا بھید ملا کیا ہم کو لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو شوق نظارا کا پردہ اٹھا نظر آنے لگی دنیا ہم کو کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو تلخئ غم کا مداوا معلوم پڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو تیرے غم سے تو سکون ملتا ...

مزید پڑھیے

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں ہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیں ہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں کیا ذروں کا جوش صبا نے چھین لیا گلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں دنیا نے ہر بات میں کیا ...

مزید پڑھیے

رنگ دل رنگ نظر یاد آیا

رنگ دل رنگ نظر یاد آیا تیرے جلووں کا اثر یاد آیا وہ نظر بن گئی پیغام حیات حلقۂ شام و سحر یاد آیا یہ زمانہ یہ دل دیوانہ رشتۂ سنگ و گہر یاد آیا یہ نیا شہر یہ روشن راہیں اپنا انداز سفر یاد آیا راہ کا روپ بنی دھوپ اپنی کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا کب نہ اس شہر میں پتھر برسے کب نہ اس شہر ...

مزید پڑھیے

ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے

ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے دیکھو ہمیں بام سے اتر کے چپ ہو گئے یوں اسیر جیسے جھگڑے تھے تمام بال و پر کے وعدہ نہ دلاؤ یاد ان کا نادم ہوں خود اعتبار کر کے اے باد سحر نہ چھیڑ ہم کو ہم جاگے ہوئے ہیں رات بھر کے شبنم کی طرح حیات کے خواب کچھ اور نکھر گئے بکھر کے جب ان کو خیال وضع آیا انداز ...

مزید پڑھیے

بھولا بسرا خواب ہوئے ہم

بھولا بسرا خواب ہوئے ہم کچھ ایسے نایاب ہوئے ہم دریا بن کر سوکھ گئے تھے قطرے سے سیراب ہوئے ہم جانے کس منظر سے گزرے پل بھر میں برفاب ہوئے ہم خود اپنی ہی گہرائی میں آخر کو غرقاب ہوئے ہم خوابوں کی تعبیر بھی دیکھیں اتنے کب خوش خواب ہوئے ہم بات زباں پر لا کر سیفیؔ بے وقعت بے آب ...

مزید پڑھیے

حبس کے دنوں میں بھی گھر سے کب نکلتے ہیں

حبس کے دنوں میں بھی گھر سے کب نکلتے ہیں دائرے کے اندر ہی راستے بدلتے ہیں خون جلتا رہتا ہے گاؤں کے جوانوں کا کارخانے شہروں کے کب دھواں اگلتے ہیں تیرے نام کا تارا جانے کب دکھائی دے اک جھلک کی خاطر ہم رات بھر ٹہلتے ہیں اب سفر کوئی بھی ہو میں کہاں اکیلا ہوں تیرے چاند سورج بھی ساتھ ...

مزید پڑھیے

ایسا لگتا ہے مخالف ہے خدائی میری

ایسا لگتا ہے مخالف ہے خدائی میری کوئی کرتا ہی نہیں کھل کے برائی میری مجھ میں مدفون بڑے شہر معانی تھے مگر دور تک کر نہ سکا وقت خدائی میری بے صدا شہر تھا خاموش تھے گلیوں کے مکیں ایک مدت مجھے آواز نہ آئی میری خیر خواہی کا رہا یوں تو سبھی کو دعویٰ چاہتا بھی تو کوئی دل سے بھلائی ...

مزید پڑھیے

خود اپنا اعتبار گنواتا رہا ہوں میں

خود اپنا اعتبار گنواتا رہا ہوں میں ذرے کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں اندھی ہوا کو دوں کوئی الزام کس لیے اپنے دیئے کو آپ بجھاتا رہا ہوں میں اک عمر کے ریاض کا حاصل نہ پوچھئے ریگ رواں پہ نقش بناتا رہا ہوں میں ہر چند مصلحت کا تقاضا کچھ اور تھا آئینہ ہر کسی کو دکھاتا رہا ہوں میں بچوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4661 سے 6203