قومی زبان

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں تم نے مرا کانٹوں بھرا ...

مزید پڑھیے

سنوار نوک پلک ابرووں میں خم کر دے

سنوار نوک پلک ابرووں میں خم کر دے گرے پڑے ہوئے لفظوں کو محترم کر دے غرور اس پہ بہت سجتا ہے مگر کہہ دو اسی میں اس کا بھلا ہے غرور کم کر دے یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے چمکنے والی ہے تحریر میری قسمت کی کوئی چراغ کی لو کو ذرا سا کم کر دے کسی نے چوم ...

مزید پڑھیے

ایسا وار پڑا سر کا

ایسا وار پڑا سر کا بھول گئے رستہ گھر کا زیست چلی ہے کس جانب لے کاسہ کاسہ مر کا کیا کیا رنگ بدلتا ہے وحشی اپنے اندر کا دل سے نکل کر دیکھو تو کیا عالم ہے باہر کا سر پر ڈالی سرسوں کی پاؤں میں کانٹا کیکر کا کون صدف کی بات کرے نام بڑا ہے گوہر کا دن ہے سینے کا گھاؤ رات ہے کانٹا بستر ...

مزید پڑھیے

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں جائے گا جہاں تو مری آواز سنے گا میں چور کی مانند ترے دل میں ...

مزید پڑھیے

کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط

کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط گل غلط غنچے غلط خار غلط ہم‌ نواؤں کی نہیں کوئی کمی بات کیجے سر بازار غلط وقت الٹ دے نہ بساط ہستی چال ہم چلتے ہیں ہر بار غلط دل کے سودے میں کوئی سود نہیں جنس ہے خام خریدار غلط ہر طرف آگ لگی ہے باقیؔ مشورہ دیتی ہے دیوار غلط

مزید پڑھیے

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے لوگ اپنے دیئے جلانے لگے کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے یہی رستہ ہے اب یہی منزل اب یہیں دل کسی بہانے لگے خود فریبی سی خود فریبی ہے پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے اس بدلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی سامنے ہے بھرا بازار ابھی آدمی ساتھ نہیں دے سکتا تیز ہے سائے کی رفتار ابھی یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار ہے ترا شہر پر اسرار ابھی دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ کیا کوئی گل ہے شرربار ابھی

مزید پڑھیے

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے عظمت عشق بڑھا دی ہم نے جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا کی گلستاں میں منادی ہم نے جب چمن میں نہ کہیں چین ملا باب زنداں پہ صدا دی ہم نے آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے خون دل سے در مے خانہ پر تیری تصویر بنا دی ہم نے دل کو آنے لگا بسنے کا ...

مزید پڑھیے

وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم کاٹتے ہیں رات جانے کس طرح صبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم بند کمرے میں سکوں ملنے لگا جب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم زندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھ نیند جب آتی ہے ...

مزید پڑھیے

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں صحبت شیشہ گراں ہے انکار سنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں ہر کرن وقت سحر کہتی ہے روزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں رنگ ہر بات میں بھرنے والو قصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں زندگی جرم بنی جاتی ہے جرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں دوست ہر عیب چھپا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4660 سے 6203