قومی زبان

ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا (ردیف .. ہ)

ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا دیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلا یوں تیری انجان جوانی راہ میں آئی جیسے تو بچپن سے میرے ساتھ نہ کھیلا جنگل کے سناٹے سے کچھ نسبت تو ہے شہر کے ہنگامے میں پھرتا کون اکیلا پہلی آگ ابھی تک ہے رگ رگ میں باقیؔ سنتے ہیں کل پھر گاؤں میں ہوگا میلہ

مزید پڑھیے

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو رنگ ساحل کا نکھر آئے گا دو گھڑی جانب دریا دیکھو تلملا اٹھا گھنا سناٹا پھر کوئی نیند سے چونکا دیکھو ہم سفر غیر ہوئے جاتے ہیں فاصلہ رہ گیا کتنا دیکھو برف ہو جاتا ہے صدیوں ...

مزید پڑھیے

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں نظر نظر سے نکلتی ہے درد کی ٹیسیں قدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں ہر ایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے ابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں ...

مزید پڑھیے

وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی

وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی زندگی داغ محبت ہی سہی آپ سے دور کی نسبت ہی سہی تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی ایک لمحے کی مسافت ہی سہی دل محبت کی ادا چاہتا ہے ایک آنسو دم رخصت ہی سہی آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام زہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی اپنی تقدیر میں سناٹا ...

مزید پڑھیے

ہم کہاں آئنہ لے کر آئے

ہم کہاں آئنہ لے کر آئے لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے دل کے ملبے میں دبا جاتا ہوں زلزلے کیا مرے اندر آئے جلوہ جلوے کے مقابل ہی رہا تم نہ آئینے سے باہر آئے دل سلاسل کی طرح بجنے لگا جب ترے گھر کے برابر آئے جن کے سائے میں صبا چلتی تھی پھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے شعر کا روپ بدل کر باقیؔ دل ...

مزید پڑھیے

ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے

ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے راہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے زندگی حرف غلط ہی نکلی ہم نے معنی تو بہت پہنائے دامن خواب کہاں تک پھیلے ریگ کی موج کہاں تک جائے تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے اونچی دیوار کے لمبے سائے بند کلیوں کی ادا کہتی ہے بات کرنے کے ہیں سو پیرائے بام و در کانپ اٹھے ہیں ...

مزید پڑھیے

سر راہ کچھ بھی کہا نہیں کبھی اس کے گھر میں گیا نہیں

سر راہ کچھ بھی کہا نہیں کبھی اس کے گھر میں گیا نہیں میں جنم جنم سے اسی کا ہوں اسے آج تک یہ پتا نہیں اسے پاک نظروں سے چومنا بھی عبادتوں میں شمار ہے کوئی پھول لاکھ قریب ہو کبھی میں نے اس کو چھوا نہیں یہ خدا کی دین عجیب ہے کہ اسی کا نام نصیب ہے جسے تو نے چاہا وہ مل گیا جسے میں نے چاہا ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سونے میں ہماری آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے اڑنے دو ...

مزید پڑھیے

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے یونہی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے کہاں اب دعاؤں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے وہ دلوں ...

مزید پڑھیے

کون آیا راستے آئینہ خانے ہو گئے

کون آیا راستے آئینہ خانے ہو گئے رات روشن ہو گئی دن بھی سہانے ہو گئے کیوں حویلی کے اجڑنے کا مجھے افسوس ہو سیکڑوں بے گھر پرندوں کے ٹھکانے ہو گئے جاؤ ان کمروں کے آئینے اٹھا کر پھینک دو بے ادب یہ کہہ رہے ہیں ہم پرانے ہو گئے یہ بھی ممکن ہے کہ میں نے اس کو پہچانا نہ ہو اب اسے دیکھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4659 سے 6203