یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے
یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے کوئی اس رات کو ڈھلنے سے روکے مرا قصہ ابھی رہتا بہت ہے بہت ہی تنگ ہوں آنکھوں کے ہاتھوں یہ دریا آج کل بہتا بہت ہے بوقت شام اکٹھے ڈوبتے ہیں دل اور سورج میں یارانہ بہت ہے بہت ہی راس ہے صحرا لہو کو کہ صحرا میں لہو اگتا بہت ...