قومی زبان

یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے

یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے کوئی اس رات کو ڈھلنے سے روکے مرا قصہ ابھی رہتا بہت ہے بہت ہی تنگ ہوں آنکھوں کے ہاتھوں یہ دریا آج کل بہتا بہت ہے بوقت شام اکٹھے ڈوبتے ہیں دل اور سورج میں یارانہ بہت ہے بہت ہی راس ہے صحرا لہو کو کہ صحرا میں لہو اگتا بہت ...

مزید پڑھیے

ہم کبھی شہر محبت جو بسانے لگ جائیں

ہم کبھی شہر محبت جو بسانے لگ جائیں کبھی طوفان کبھی زلزلے آنے لگ جائیں کبھی اک لمحۂ فرصت جو میسر آ جائے میری سوچیں مجھے سولی پہ چڑھانے لگ جائیں رات کا رنگ کبھی اور بھی گہرا ہو جائے کبھی آثار سحر کے نظر آنے لگ جائیں انتظار اس کا نہ اتنا بھی زیادہ کرنا کیا خبر برف پگھلنے میں ...

مزید پڑھیے

دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے

دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے آنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنے اتنے ہی ہو گئے ہم منزل عرفاں کے قریب جس قدر رسم و رہ دہر سے بیگانہ بنے تا در یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوق اپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے ظرف مے ٹوٹ کے بھی ہونے نہ پائے بے کار ہو شکستہ کوئی شیشہ تو وہ ...

مزید پڑھیے

تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیں

تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیں رخنہ گر ہو نگہ شوق تو کچھ دور نہیں شب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر اتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں راز سربستۂ فطرت نہ کھلا ہے نہ کھلے میں ہوں اس سعی میں مصروف جو مشکور نہیں صرف نیرنگئ نظارہ ہے خود اپنا وجود عین وحدت ہے کوئی ناظر و منظور نہیں نظر ...

مزید پڑھیے

ہند کے جاں باز سپاہی

سر بکف ہند کے جاں باز وطن لڑتے ہیں تیغ نو لے صف دشمن میں گھسے پڑتے ہیں ایک کھاتے ہیں تو دو منہ پہ وہیں جڑتے ہیں حشر کر دیتے ہیں برپا یہ جہاں اڑتے ہیں جوش میں آتے ہیں دریا کی روانی کی طرح خون دشمن کا بہا دیتے ہیں پانی کی طرح جب بڑھاتے ہیں قدم پیچھے پھر ہٹتے ہی نہیں حوصلے ان کے جو ...

مزید پڑھیے

ترا کشتہ اٹھایا اقربا نے

ترا کشتہ اٹھایا اقربا نے چلے محشر کو مٹی میں دبانے نفس گم اور سخن باقی رہے گا نہ ہوگا تار اور ہوں گے ترانے خدا ٹھنڈا رکھے اے شمع تجھ کو کھڑی روتی ہے بیکس کے سرہانے ترے چلنے سے سینے میں زمیں کے اٹھا اک درد محشر کے بہانے ہمیں نے پنجۂ دست جنوں سے کئے ہیں کوہ کی چوٹی میں شانے

مزید پڑھیے

پکار وقت کی

چلو کہ پہلے نفرتوں کی آن بان توڑ دیں یہ وقت کی پکار ہے الگ الگ یہ راستوں پہ رینگتے سے قافلے قدم قدم مسافروں کے ٹوٹتے سے حوصلے یہ رینگتے سے قافلوں کو ٹوٹتے سے حوصلوں کو اک ڈگر سے جوڑ دیں یہ وقت کی پکار ہے یہ شہر شہر خون کے بہاؤ میں بسا ہوا یہ گاؤں گاؤں آپسی تناؤ میں کسا ہوا یہ خون کے ...

مزید پڑھیے

ایکتا کی آواز

خلوص دل میں لیے کارواں کے ساتھ چلو مسافرو چلو عزم گراں کے ساتھ چلو زمانہ ساتھ چلے انجمن بھی ساتھ چلے بہار چومے قدم بانکپن بھی ساتھ چلے وہ عزم ہو کہ جسے زندگی سلام کرے قدم قدم پہ سکوں جشن اہتمام کرے وطن کی لاج بنو قوم کا نکھار بنو ہر ایک دل کے لیے حسن اعتبار بنو بھلا دو فرقہ پرستی ...

مزید پڑھیے

اردو

گھرا طوفان میں جب بھی وطن آواز دی میں نے ہوئی انسانیت جب بے کفن آواز دی میں نے میں اردو ہوں مجھی سے عظمت فصل بہاراں ہے خزاں نے رخ کیا سوئے چمن آواز دی میں نے

مزید پڑھیے

سوئے ہوئے جذبوں کو جگا کر پھر وہ شام نہ آئی

سوئے ہوئے جذبوں کو جگا کر پھر وہ شام نہ آئی سنگ ترے بس اک دن آ کر پھر وہ شام نہ آئی تیری باتوں کی خوشبو سے مہکی وادی وادی پھولوں کے انبار لگا کر پھر وہ شام نہ آئی ندی کنارے کا وہ منظر تکنے کو جی چاہے کونجوں کی اک ڈار اڑا کر پھر وہ شام نہ آئی بیٹھے بیٹھے جل اٹھتی ہیں بھیگی بھیگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4627 سے 6203