قومی زبان

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی عجب کھیل کھیلا جوانی لٹا دی نہیں دل میں داغ تمنا بھی باقی انہیں پر سے ان کی نشانی لٹا دی کچھ اس طرح ظالم نے دیکھا کہ ہم نے نہ سوچا نہ سمجھا جوانی لٹا دی تمہارے ہی کارن تمہاری بدولت تمہاری قسم زندگانی لٹا دی اداؤں کو دیکھا نگاہوں کو دیکھا ہزاروں طرح ...

مزید پڑھیے

جھونکے آتے ہیں بوئے الفت کے

جھونکے آتے ہیں بوئے الفت کے پھول یا رب ہیں کس کی تربت کے شور ہے دل میں غم کے نالوں کا علم اٹھتے ہیں آج حسرت کے تیری باتوں میں کیا حلاوت تھی کہ نہ لب کھل سکے شکایت کے ہم پہ اور تیغ ناز اٹھ نہ سکے چوچلے ہیں تری نزاکت کے اے بیاںؔ قیس و وامق و فرہاد تھے یہ سارے مرید حضرت کے

مزید پڑھیے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے ان ہواؤں سے تو بارود کی بو آتی ہے ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے کیا بھروسہ ہے سمندر کا خدا خیر کرے سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچے ہو گیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے ...

مزید پڑھیے

دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا

دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن جیسا بھی مل گیا ہمیں ویسا پہن لیا فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن ...

مزید پڑھیے

رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اسے

رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اسے لگنے دے ایک اور بھی ضرب شدید اسے جی ہاں وہ اک چراغ جو سورج تھا رات کا تاریکیوں نے مل کے کیا ہے شہید اسے فاقے نہ جھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیں آفت میں ڈال دے نہ یہ بحران عید اسے فرط خوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لے آرام سے سناؤ سحر کی نوید اسے ہر ...

مزید پڑھیے

یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں

یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں یہ تمہارے ہی پشیمان کرم آتے ہیں اتنا کھل کر بھی نہ رو جسم کی بستی کو بچا بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں تو سنا تیری مسافت کی کہانی کیا ہے میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں ...

مزید پڑھیے

دل کہیں بھی نہیں لگتا ہوگا

دل کہیں بھی نہیں لگتا ہوگا دل نہیں مانتا ایسا ہوگا جتنا ہنگامہ زیادہ ہوگا آدمی اتنا ہی تنہا ہوگا چلتا پھرتا ہے ستارہ میرا اب کہیں اور چمکتا ہوگا میں نے اک بات چھپا رکھی ہے اب اسی بات کا چرچا ہوگا

مزید پڑھیے

ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے

ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے پیار کی خاطر کچھ بھی ہم کر سکتے ہیں وہ تیری مزدوری بھی ہو سکتی ہے سکھ کا دن کچھ پہلے بھی چڑھ سکتا ہے دکھ کی رات عبوری بھی ہو سکتی ہے دشمن مجھ پر غالب بھی آ سکتا ہے ہار مری مجبوری بھی ہو سکتی ہے بیدلؔ مجھ میں یہ جو اک ...

مزید پڑھیے

مری داستان الم تو سن کوئی زلزلہ نہیں آئے گا

مری داستان الم تو سن کوئی زلزلہ نہیں آئے گا مرا مدعا نہیں آئے گا ترا تذکرہ نہیں آئے گا کئی گھاٹیوں پہ محیط ہے مری زندگی کی یہ رہ گزر تری واپسی بھی ہوئی اگر تجھے راستہ نہیں آئے گا اگر آئے دشت میں جھیل تو مجھے احتیاط سے پھینکنا کہ میں برگ خشک ہوں دوستو مجھے تیرنا نہیں آئے گا اگر ...

مزید پڑھیے

ان کہی کو کہی بنانا ہے

ان کہی کو کہی بنانا ہے اعتبار سخن بڑھانا ہے میرے اندر کا پانچواں موسم کس نے دیکھا ہے کس نے جانا ہے ڈگڈگی ہی نہیں بجانی مجھے عشق کو ناچ بھی سکھانا ہے تم جو اتنا اٹھا رہے ہو مجھے کس کنویں میں مجھے گرانا ہے رات کو روز ڈوب جاتا ہے چاند کو تیرنا سکھانا ہے ہجر میں نیند کیوں نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4626 سے 6203