کیا بچھڑ کر رہ گیا جانے بھری برسات میں
کیا بچھڑ کر رہ گیا جانے بھری برسات میں ایک کوئل کوکتی ہے آم کے باغات میں سوچ میں گم فاختہ بیٹھی ہوئی ہے شاخ پر باز ہے اوپر تو نیچے اک شکاری گھات میں وقت کے پنچھی کو اڑنا تھا بالآخر اڑ گیا آڑی ترچھی کچھ لکیریں ہیں فقط اب ہاتھ میں کوئی جیتا ہے جیے گر کوئی مرتا ہے مرے آج کے انساں ...