قومی زبان

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا یہ اور بات کہ دیکھے اسے زمانہ ہوا نہ پوچھ میرا پتہ موجۂ ہوا ہوں میں بھلا ہوا کا بھی کوئی کبھی ٹھکانہ ہوا ہر ایک سمت صحیفے کھلے پڑے تھے یہاں ترا نصیب کہ تو حرف آشنا نہ ہوا پناہ ملتی کسے میری کبریائی سے خدا کا شکر میں بندہ ہوا خدا نہ ہوا اس ...

مزید پڑھیے

جی نہیں لگتا کتابوں میں کتابیں کیا کریں

جی نہیں لگتا کتابوں میں کتابیں کیا کریں کیا پڑھیں پڑھ کر بجھی بے نور سطریں کیا کریں کچھ عجب حالت ہے اے دل کچھ سمجھ آتا نہیں سو رہیں گھر جا کے یا گلیوں میں گھومیں کیا کریں واسطہ پتھر سے پڑ جائے جہاں سوچوں وہاں کیا کریں زور بیاں قلمیں دواتیں کیا کریں ایسی یخ بستہ ہوا میں کونپلیں ...

مزید پڑھیے

ہر گام پہ آوارگی و در بدری میں

ہر گام پہ آوارگی و در بدری میں اک دھیان کا سایہ ہے مری ہم سفری میں تا حد نظر پگھلی ہوئی ریت کا دریا کس سمت نکل آئے ہیں یہ بے خبری میں کس کی طرب انداز نظر گھول رہی ہے اندوہ و غم و سوز مزاج بشری میں کیا کوئی کہیں کنج خیابان سکوں ہے اے دشت غم زیست تری بے شجری میں اے قریۂ دل دیکھ ...

مزید پڑھیے

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئے

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئے پورب پچھم ڈھونڈا اس کو آخر گوشہ گیر ہوئے کون ہیں یہ کیا ربط تھا ان سے کیا کہئے کچھ یاد نہیں یہ چہرے کب دل میں اترے کس لمحے تصویر ہوئے سو پیرائے ڈھونڈے پھر بھی آج کے دن تک عاجز ہیں ہائے وہ بات جو کہہ بھی نہ پائے اور دفتر تحریر ہوئے صدہا گہری ...

مزید پڑھیے

گرفت زیست میں ہوں قید بے حصار میں ہوں

گرفت زیست میں ہوں قید بے حصار میں ہوں عذاب عرصہ گہہ جبر و اختیار میں ہوں خیال ہے تو ابھی ڈھونڈ پھر ملوں نہ ملوں ابھی میں تیرے اڑائے ہوئے غبار میں ہوں بھڑک رہا ہے بدن روح کو خبر بھی نہیں یہ کیا مقام ہے یہ کیسے شعلہ زار میں ہوں میں کون ہوں ترے نزدیک یہ سوال نہیں حباب ہوں کہ صدف ...

مزید پڑھیے

بے سود ہے گفتار جو کردار نہیں ہے

بے سود ہے گفتار جو کردار نہیں ہے کردار ہو تو حاجت گفتار نہیں ہے اے دل جلو یہ اشک یہاں دیکھتا ہے کون اہل جہاں کو ان سے سروکار نہیں ہے کیا جانے درد دل کہ یہ دنیا ہے سنگ دل یہ درد یہاں لایق اظہار نہیں ہے کیوں اپنے دل میں تم لیے پھرتے ہو مروت اس کا جہاں میں کوئی خریدار نہیں ہے سارا ...

مزید پڑھیے

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا درد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیا بارہا دیکھا ہے دل نے او مرے محو خرام حشر اٹھا اور ترے قدموں میں شامل ہو گیا دل جہاں اچھلا فضائے دو جہاں پر چھا گیا عرصۂ کونین جب سمٹا مرا دل ہو گیا بے خبر رہنا ہی اچھا اس جہان غیر میں مٹ گیا جو واقف ...

مزید پڑھیے

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا عذر نگاہ دوست نے جرم نظر سکھا دیا آہ وہ بد نصیب آہ نالۂ عندلیب آہ میرا فسانۂ الم جیسے مجھے سنا دیا ٹوٹ سکا نہ پستئ فکر و نظر کا سلسلہ دام نہ قفس کو ہم نے خود دام و قفس بنا دیا میرے مذاق دید کی شرم اسی کے ہاتھ ہے جس نے شعاع حسن کو حسن نظر بنا ...

مزید پڑھیے

ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہے

ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہے مطمئن شمع ہے یا رقص میں پروانہ ہے برتر از وہم و تصور مرا مے خانہ ہے زندگی کیا ہے مری لغزش مستانہ ہے وہ جو اک شوق جنوں ساز کا افسانہ ہے آنکھ شاید کہے دل تو ابھی دیوانہ ہے ہوش آیا نہ کبھی میں نے جنوں کو سمجھا داور حشر یہیں تک مرا افسانہ ہے اب نگہ ان ...

مزید پڑھیے

بڑی دل شکن ہے رہ سفر کوئی ہم سفر ہے نہ یار ہے

بڑی دل شکن ہے رہ سفر کوئی ہم سفر ہے نہ یار ہے کہ جواں اثر ہے تمام شے نہ سکون ہے نہ قرار ہے ذرا تیز گام بڑھے چلو ہے فضائے صحرا مسافرو جہاں آنکھ دل کی جھپک گئی وہیں زندگی کا مزار ہے نہ رموز عشق سے با خبر نہ مزاج حسن سے آگہی یہ مذاق رامش و رنگ بھی رہ راستی سے فرار ہے نہ کسی میں حسن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4618 سے 6203