جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا
جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا یہ اور بات کہ دیکھے اسے زمانہ ہوا نہ پوچھ میرا پتہ موجۂ ہوا ہوں میں بھلا ہوا کا بھی کوئی کبھی ٹھکانہ ہوا ہر ایک سمت صحیفے کھلے پڑے تھے یہاں ترا نصیب کہ تو حرف آشنا نہ ہوا پناہ ملتی کسے میری کبریائی سے خدا کا شکر میں بندہ ہوا خدا نہ ہوا اس ...