قومی زبان

اک لمحہ بھی گزاروں بھلا کیوں کسی کے ساتھ

اک لمحہ بھی گزاروں بھلا کیوں کسی کے ساتھ گزرے تمام عمر مری آپ ہی کے ساتھ جب ہاتھ دوستی کا بڑھایا خوشی کے ساتھ اس نے مجھے قبول کیا خوش دلی کے ساتھ دل سے کیا ہے یاد اسے میں نے جب کبھی اظہار ہجر کرتی ہیں آنکھیں نمی کے ساتھ اک بار میرے یار نے ایسا کیا مذاق اللہ رے نہ ہو کبھی ایسا کسی ...

مزید پڑھیے

مانا اس کو گلہ نہیں مجھ سے

مانا اس کو گلہ نہیں مجھ سے کچھ تو ہے جو کہا نہیں مجھ سے حق نہیں دوستی کا ایسا کوئی جو کہ اس کو ملا نہیں مجھ سے دل ہی دل میں وہ بغض رکھتا ہے جو بظاہر خفا نہیں مجھ سے کچھ تو ہوگا ضرور اس کا سبب وہ جو اب تک لڑا نہیں مجھ سے لاکھ پیچھا چھڑانا چاہا مگر غم ہوا ہی جدا نہیں مجھ سے کیسے رہ ...

مزید پڑھیے

نقش بردیوار

متاع درد کو صاحب شعور کھو بیٹھے ثبات عزم کو مرد غیور کھو بیٹھے نظر سے محو ہے ام‌ الکتاب کی تفسیر حضور معنیٔ غیب و ظہور کھو بیٹھے گیا جو ہاتھ سے ایمان تو تحیر کیا وفور عیش میں تخت و قصور کھو بیٹھے دل و دماغ سے رخصت جہاد کا جذبہ سبیل حق کے ضروری امور کھو بیٹھے خودی سے باقی تھی مذہب ...

مزید پڑھیے

طرحدار کہاں سے لاؤں

جھوٹ کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں رقص‌ بے معنی کی جھنکار کہاں سے لاؤں ڈھونڈ کے حیلۂ تکذیب برائے انصاف بے محابا سر دربار کہاں سے لاؤں بے خبر عشق سے ہیں آج ریاکار شیوخ جذب منصور سر دار کہاں سے لاؤں بیچ کر چادر زہرا کو سجاتا فردوس ریشمی مکر کی دستار کہاں سے لاؤں موت کی گود میں ہے ...

مزید پڑھیے

حق کیش کی فریاد

تحسین کے طالب نہیں اوصاف خداداد آفاق ہلا دیتی ہے حق کیش کی فریاد آباد کہاں حلقۂ شعری کی فضا میں بت خانۂ مانی کہ صنم خانۂ بہزاد مٹ جائے گا ایوان تفاخر کا تکلف یک شعلہ‌ٔ جوالہ ہے آہ دل ناشاد ضرغام ہے روباہ کے زرین قفس میں آزاد ہیں پابند گرفتار ہیں آزاد غازی نے کہا لوٹ لو بت ...

مزید پڑھیے

احسن تقویم

بستان‌ وفا دہر میں آباد ہے ہم سے دن رات زمانے کو خدا یاد ہے ہم سے تاریخ جنوں خون سے کی ہم نے نگارش آفاق ہیں ہر مسند ارشاد ہے ہم سے روشن کیا ظلمات میں قندیل ہنر کو صحرا میں چمن نور کا آباد ہے ہم سے ہم جنت پرویز کے ہیں حسن تفاخر شیریں کی طلب تیشۂ فرہاد ہے ہم سے سانچے میں غم و درد کے ...

مزید پڑھیے

ہوئی مدتیں اے دل حزیں نہ پیام ہے نہ سلام ہے

ہوئی مدتیں اے دل حزیں نہ پیام ہے نہ سلام ہے کہ اسی کو کہتے ہیں دوستی کہ اسی کا دوستی نام ہے کبھی جائے باد صبا ادھر تو یہ کہنا اس کی بھی ہے خبر بجز ایک غم کے سوا ترے جسے کھانا پینا حرام ہے تو سکون و صبر مٹائے جا غم عشق مجھ کو رلائے جا ہو تڑپ تڑپ کے سحر مجھے یہی درد دل ترا کام ہے میں ...

مزید پڑھیے

دل جو امیدوار ہوتا ہے

دل جو امیدوار ہوتا ہے تیر غم کا شکار ہوتا ہے جب ترا انتظار ہوتا ہے دل مرا بے قرار ہوتا ہے یہ ہی فصل جنوں کی ہے تمہید پیرہن تار تار ہوتا ہے آنکھ ملتے ہی اس ستم گر سے تیر سینے کے پار ہوتا ہے مسکراہٹ لبوں پہ ہے ان کے دل مرا اشک بار ہوتا ہے اس کا کرتے ہیں اعتبار کہ جو قابل اعتبار ...

مزید پڑھیے

جلووں کا ان کے دل کو طلبگار کر دیا

جلووں کا ان کے دل کو طلبگار کر دیا اے شوق کس بلا میں گرفتار کر دیا اک ہو گیا اضافہ مری زندگی میں اور تم نے جو دل کو مائل آزار کر دیا دل کی مجھے خبر ہے نہ دل کو مری خبر ملتے ہی آنکھ کیا نگہ یار کر دیا دل بستگی کے واسطے دل کو لگایا تھا امید حسرتوں نے اک آزار کر دیا رکھ لی جنوں نے ...

مزید پڑھیے

مبتلائے عتاب ہیں ہم لوگ

مبتلائے عتاب ہیں ہم لوگ اک اسیر عذاب ہیں ہم لوگ اپنے دل کو عتاب ہیں ہم لوگ خود سراسر عذاب ہیں ہم لوگ اپنی بربادی اپنے ہاتھوں کی کیسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ اپنا کوئی بھی تو جواب نہیں خود ہی اپنے جواب ہیں ہم لوگ کاش ناکامیاں ہوں پے در پے سمجھو کہ کامیاب ہیں ہم لوگ کہہ رہی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4617 سے 6203