بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر
بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر ٹھہرا ہوا ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر ہم مشربی کی شرم گوارا نہ ہو سکی خود چھوڑ دی ہے شیخ کو مے خوار دیکھ کر کیا دیکھتا ہے اے دل مشتاق دید اب ہم نے تو کہہ دیا تھا خبردار دیکھ کر آنے لگی ہے عشق کو غیرت پر اپنی شرم شاید تری نگاہ کو بیزار دیکھ کر کیا ...