قومی زبان

بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر

بیٹھا نہیں ہوں سایۂ دیوار دیکھ کر ٹھہرا ہوا ہوں وقت کی رفتار دیکھ کر ہم مشربی کی شرم گوارا نہ ہو سکی خود چھوڑ دی ہے شیخ کو مے خوار دیکھ کر کیا دیکھتا ہے اے دل مشتاق دید اب ہم نے تو کہہ دیا تھا خبردار دیکھ کر آنے لگی ہے عشق کو غیرت پر اپنی شرم شاید تری نگاہ کو بیزار دیکھ کر کیا ...

مزید پڑھیے

کہاں آیا ہے دیوانوں کو تیرا کچھ قرار اب تک

کہاں آیا ہے دیوانوں کو تیرا کچھ قرار اب تک ترے وعدے پہ بیٹھے کر رہے ہیں انتظار اب تک خدا معلوم کیوں لوٹی نہیں جا کر بہار اب تک چمن والے چمن کے واسطے ہیں بے قرار اب تک برا گلچیں کو کیوں کہئے برے ہیں خود چمن والے بھلے ہوتے تو کیا منہ دیکھتی رہتی بہار اب تک چمن کی یاد آئی دل بھر آیا ...

مزید پڑھیے

خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں

خود کو تماشا خوب بناتا رہا ہوں میں قیمت بھی سادگی کی چکاتا رہا ہوں میں یوں بھیڑ میں تو لٹنا بڑی عام بات ہے صحرا میں خود کو تنہا لٹاتا رہا ہوں میں منزل کی جستجو بھی عجب شے ہے دوستو ٹھوکر سے زخم اپنے لگاتا رہا ہوں میں کر کے کسی کو خوار بہت ہنستا ہے بشر سہہ کے ستم بھی خود کو ہنساتا ...

مزید پڑھیے

شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو

شکوہ نصیب کا نہ کرے بار بار تو مشکل حیات ہنس کے ہمیشہ گزار تو کیوں فکر حال و ماضی کی کرتا ہے روز و شب سب اس کو اختیار ہے بے اختیار تو مایوس کیوں جفاؤں سے ہوتا ہے بے وجہ سب کے گلے میں ڈال وفاؤں کے ہار تو خوددار بن خودی کی طلب لے کے جی سدا بے فکر اس پہ جان بھی کر دے نثار تو وہ سر ...

مزید پڑھیے

خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ

خوشیاں تھیں بے وفا نہ رہیں زندگی کے ساتھ غم با وفا تھے چلتے رہے آدمی کے ساتھ ڈھلنے لگی جوانی جو آئی تھی چار دن ٹھہرا بڑھاپا قبر تلک رہبری کے ساتھ انداز زندگی کے بدل کر جیو سدا اپنوں کی بے رخی کو سہو تم خوشی کے ساتھ پوجا ہے میں نے روز و شب اس قدر اسے اس کا ہی نام لکھتی رہی شاعری ...

مزید پڑھیے

سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں

سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں اپنی ہستی میں خدا کو کبھی ڈھونڈا ہی نہیں الجھا الجھا سا ہے کیوں اپنے بھرم میں ہر دم تو نے خود اپنے گریبان میں جھانکا ہی نہیں تیرے ہونے سے کرم اس کا نظر آتا ہے تجھ سے بڑھ کر کوئی شاہد وہ دکھاتا ہی نہیں اس کے بندوں میں اسے ڈھونڈ اگر ہے ...

مزید پڑھیے

پاس ہونے کا اشارا مل گیا

پاس ہونے کا اشارا مل گیا اب تو جینے کا سہارا مل گیا ڈھل گیا سورج تو کچھ ایسا لگا صبح نو کا اک نظارا مل گیا تم ملے تو مل گئی ہے زندگی مرتے مرتے بھی سہارا مل گیا نا امیدی کو ملی امید اک اک سہارا جب تمہارا مل گیا ڈوبنے والی تھی کشتی جان کی اب تو ساحل کا کنارا مل گیا یہ زمین و آسماں ...

مزید پڑھیے

خامشی میں قیاس میرا ہے

خامشی میں قیاس میرا ہے بندشیں ہی لباس میرا ہے خواب پھولوں کے آنکھ نے گوندھے پھر چمن کیوں اداس میرا ہے کوئی تعبیر خواب مل جاتی کیا مقدر ہی یاس میرا ہے حسرتوں آج دور ہی رہنا آج پھر دل اداس میرا ہے تو گزر جا ادھر صباؔ بن کر اے صنم یہ سپاس میرا ہے

مزید پڑھیے

مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا

مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا کوئی دوست تم سا ہوتا کوئی ہم سفر تو ہوتا یہ تمام سائے اپنے چلوں کب تلک سمیٹے کوئی ہم نشیں تو ہوتا کوئی چارہ گر تو ہوتا کبھی کچھ گمان ہوتا مجھے منزلوں کا اپنی جسے اپنا ہم نے سمجھا وہی راہبر تو ہوتا میں کہاں سے لاؤں قسمت جو بنوں تمہارے ...

مزید پڑھیے

بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا

بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا وقت سے پہلے قیامت کا نظارا کر دیا لاکھ کہنے پر بھی اس نے رخ پہ رکھا تھا نقاب اک جھلک کی آرزو کو ناگوارا کر دیا چل پڑے دامن جھٹک کر ہم کو پیچھے چھوڑ کر تنہا آغاز سفر پر کیوں دوبارہ کر دیا خود ہی لو امید کی اس نے جگائی اور پھر توڑ کر امید خود ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4608 سے 6203