قومی زبان

زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں (ردیف .. ے)

زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں مرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتے یہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے یہ بیکسی بھی عجب بیکسی ہے دنیا میں کوئی ستائے ہمیں ہم ستا نہیں سکتے کشش وفا کی انہیں کھینچ لائی آخر کار یہ تھا رقیب کو دعویٰ وہ آ نہیں ...

مزید پڑھیے

فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا

فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا اجل کیا ہے خمار بادۂ ہستی اتر جانا عزیزان وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا عروس جاں نیا پیراہن ہستی بدلتی ہے فقط تمہید آنے کی ہے دنیا سے گزر جانا مصیبت میں بشر کے جوہر مردانہ کھلتے ہیں مبارک بزدلوں کو گردش ...

مزید پڑھیے

کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی (ردیف .. ن)

کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھی پر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیں رگوں میں خوں ہے وہی دل وہی جگر ہے وہی وہی زباں ہے مگر وہ اثر سخن میں نہیں وہی ہے بزم وہی شمع ہے وہی فانوس فدائے بزم وہ پروانے انجمن میں نہیں وہی ہوا وہی کوئل وہی پپیہا ہے وہی چمن ہے پہ وہ باغباں چمن میں ...

مزید پڑھیے

درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا

درد دل پاس وفا جذبۂ ایماں ہونا آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا نو گرفتار بلا طرز وفا کیا جانیں کوئی نا شاد سکھا دے انہیں نالاں ہونا روکے دنیا میں ہے یوں ترک ہوس کی کوشش جس طرح اپنے ہی سائے سے گریزاں ہونا زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ...

مزید پڑھیے

مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں

مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہ خودی کا وہم و گماں نہیں یہ سرور ساغر مے نہیں یہ خمار خواب گراں نہیں جو ظہور عالم ذات ہے یہ فقط ہجوم صفات ہے ہے جہاں کا اور وجود کیا جو طلسم وہم و گماں نہیں یہ حیات عالم خواب ہے نہ گناہ ہے نہ ثواب ہے وہی کفر و دیں میں خراب ہے جسے علم راز جہاں نہیں نہ وہ ...

مزید پڑھیے

برسات

بندھ گئی ہے رحمت حق سے ہوا برسات کی نام کھلنے کا نہیں لیتی گھٹا برسات کی اگ رہا ہے ہر طرف سبزہ در و دیوار پر انتہا گرمی کی ہے اور ابتدا برسات کی دیکھنا سوکھی ہوئی شاخوں میں بھی جان آ گئی حق میں پودوں کے مسیحا ہے ہوا برسات کی خود بخود تازہ امنگیں جوش پر آنے لگیں دل کو گرمانے لگی ...

مزید پڑھیے

آصف الدولہ کا امام باڑہ لکھنؤ

آصف الدولۂ مرحوم کی تعمیر کہن جس کی صنعت کا نہیں صفحۂ ہستی پہ جواب دیکھ سیاح اسے رات کے سناٹے میں منہ سے اپنے مہ کامل نے جب الٹی ہو نقاب در و دیوار نظر آتے ہیں کیا صاف و سبک سحر کرتی ہے نگاہوں پہ ضیائے مہتاب یہی ہوتا ہے گماں خاک سے مس اس کو نہیں ہے سنبھالے ہوئے دامن میں ہوائے ...

مزید پڑھیے

مرثیہ گوپال کرشن گوکھلے

لرز رہا تھا وطن جس خیال کے ڈر سے وہ آج خون رلاتا ہے دیدۂ تر سے صدا یہ آتی ہے پھل پھول اور پتھر سے زمیں پہ تاج گرا قوم ہند کے سر سے حبیب قوم کا دنیا سے یوں روانہ ہوا زمیں الٹ گئی کیا منقلب زمانہ ہوا بڑھی ہوئی تھی نحوست زوال پیہم کی ترے ظہور سے تقدیر قوم کی چمکی نگاہ یاس تھی ہندستاں ...

مزید پڑھیے

وید

فیض قدرت سے جو تقدیر کھلی عالم کی ساحل ہند پہ وحدت کی تجلی چمکی مٹ گئی جہل کی شب صبح کا تارہ چمکا آریہ ورت کی قسمت کا ستارا چمکا اہل دل پر ہوئی کیفیت عرفاں طاری جن سے دنیا میں ہوئیں دین کی نہریں جاری تھیں کھلی جلوہ گہ خاص میں راہیں ان کی واقف راز حقیقت تھیں نگاہیں ان کی عرش سے ...

مزید پڑھیے

احساس پہ بوجھل کچھ صدمات کا قصہ ہے

احساس پہ بوجھل کچھ صدمات کا قصہ ہے غم صرف تخیل کے لمحات کا قصہ ہے شاید میں نہیں کچھ بھی شاید میں بہت کچھ ہوں کیا جانے مرا جیون کس بات کا قصہ ہے آیا ہوں کہاں سے میں جانا ہے کہاں آخر ہر شعر مرا ان ہی فکرات کا قصہ ہے کھوئی ہوئی منزل کے ہم بھٹکے مسافر ہیں کچھ اور نہیں دنیا بے بات کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4540 سے 6203