قومی زبان

وہ کیا جواب دے عرض سوال سے پہلے

وہ کیا جواب دے عرض سوال سے پہلے نہ سمجھے بات جو اظہار حال سے پہلے خوشا وہ دور کہ جب تھا مسرتوں کا ہجوم رخ حیات پہ گرد ملال سے پہلے کرشمہ سازیٔ حسن تصورات نہ پوچھ وہ آ گئے مرے دل میں خیال سے پہلے یہ جانتا ہوں کسی چیز کو زمانے میں زوال ہو نہیں سکتا کمال سے پہلے خدا گواہ کہ میں نے ...

مزید پڑھیے

پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوں

پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوں پھر ساری کائنات غزل میں سمیٹ لوں ہوتے ہیں رونما جو زمانے میں روز و شب وہ سارے حادثات غزل میں سمیٹ لوں پہلے تو میں غزل میں کہوں اپنے دل کی بات پھر سب کے دل کی بات غزل میں سمیٹ لوں کوئی خیال ذہن سے بچ کر نہ جا سکے سارے تصورات غزل میں سمیٹ ...

مزید پڑھیے

پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنے

پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنے سب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنے کس خطۂ طلب میں اچانک پڑے تھے پاؤں امڈا ہوا تھا دشت گماں میرے سامنے جھونکا سا بیت جاؤں کہ دیوار سا رکوں اک آ پڑی ہے جائے اماں میرے سامنے شہر صدا پہ ہے کوئی پردہ پڑا ہوا کوئی گلی نہ کوئی مکاں میرے سامنے اس پر ...

مزید پڑھیے

بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھا

بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھا ہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھا جدھر فصیلوں نے اس کو موڑا یہ مڑ گئی ہے ہوا کی موجوں میں کوئی کوندا اتارنا تھا تو کیا سبب سات پانیوں کو نہ پی سکے ہم خود اپنا ڈوبا ہوا جزیرہ ابھارنا تھا میں اپنے اندر سمٹ گیا ایک لمحہ بن کر کہیں تو اپنے جنم کا ...

مزید پڑھیے

سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائے

سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائے کہاں تک جانے گرد گم رہی جائے بچا کر اپنے سائے کو کہاں رکھوں کہ شب تو ہر طرف کو پھیلتی جائے کوئی دیوار ہے تیری سماعت بھی کہ جو آواز آئے لوٹتی جائے نہ پہروں لکھ سکوں میں کوئی بات اپنی عجب سی گرد کاغذ پر جمی جائے اچانک ٹوٹ جائے قصر تنہائی کوئی آواز ...

مزید پڑھیے

دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے

دل کیے تسخیر بخشا فیض روحانی مجھے حب قومی ہو گیا نقش سلیمانی مجھے منزل عبرت ہے دنیا اہل دنیا شاد ہیں ایسی دلجمعی سے ہوتی ہے پریشانی مجھے جانچتا ہوں وسعت دل حملۂ غم کے لیے امتحاں ہے رنج و حرماں کی فراوانی مجھے حق پرستی کی جو میں نے بت پرستی چھوڑ کر برہمن کہنے لگے الحاد کا بانی ...

مزید پڑھیے

فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئے

فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئے بہار عالم فانی رہے رہے نہ رہے جنون حب وطن کا مزا شباب میں ہے لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے رہے گی آب و ہوا میں خیال کی بجلی یہ مشت خاک ہے فانی رہے رہے نہ رہے جو دل میں زخم لگے ہیں وہ خود پکاریں گے زباں کی سیف بیانی رہے رہے نہ رہے دلوں میں ...

مزید پڑھیے

انہیں یہ فکر ہے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے

انہیں یہ فکر ہے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے یہ رنگ بیکسی رنگ جنوں بن جائے گا غافل سمجھ لے یاس و حرماں کے مرض کی انتہا کیا ہے نیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسم ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں

کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میں کہ زیور ہو گیا طوق غلامی اپنی گردن میں شجر سکتے میں ہیں خاموش ہیں بلبل نشیمن میں سدھارا قافلہ پھولوں کا سناٹا ہے گلشن میں گراں تھی دھوپ اور شبنم بھی جن پودوں کو گلشن میں تری قدرت سے وہ پھولے پھلے صحرا کے دامن میں ہوائے تازہ دل کو خود ...

مزید پڑھیے

نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں

نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں وطن کی آبرو اہل وطن برباد کرتے ہیں ہوا میں اڑ کے سیر عالم ایجاد کرتے ہیں فرشتے دنگ ہیں وہ کام آدم زاد کرتے ہیں نیا مسلک نیا رنگ سخن ایجاد کرتے ہیں عروس شعر کو ہم قید سے آزاد کرتے ہیں متاع پاس غیرت بوالہوس برباد کرتے ہیں لب خاموش کو شرمندۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4539 سے 6203