قومی زبان

ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھے

ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھے کن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھے لمحے کا لمس پھیل چکا کائنات پر آواز دینے آئی ہیں اب دوریاں مجھے اک جست میں تمام ہوئیں ساری وسعتیں لا اب نئی زمین نیا آسماں مجھے آج ایک دشت وشت میں تنہا شجر بھی میں حیرت سے تاکتے ہیں سبھی کارواں مجھے جنگل ...

مزید پڑھیے

روشنی روشنی کے خواب

دلوں میں درد دماغوں میں کشمکش کا دھواں جبیں پہ خاک نگاہوں میں غم کی تاریکی فریب کھائے ہیں ہم نے فریب کھاتے ہیں فریب دے نہ سکے ہم مگر زمانے کو ہمیں تو فکر یہی ہے کہ کون آئے گا ہمارے بعد لہو کے دیے جلانے کو وہ زندگی جو سبھی کو عزیز ہوتی ہے ہم اہل غم کے نہ یوں پاس آ سکے گی ...

مزید پڑھیے

آج پھر درد اٹھا

آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میں آج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گے آج پھر کرب کے شعلوں کو ہوا دوں گا میں اور کچھ لوگ بجھانے کو چلے آئیں گے آگ سے آگ بجھی ہے نہ بجھے گی لیکن درد کو آگ کے دریا میں اترنا ہوگا آگ اور درد کے معیار پرکھنے کے لئے ان اندھیروں کی فصیلوں سے گزرنا ہوگا میں ...

مزید پڑھیے

جنگ

جنگ دھرتی پہ ستاروں کے لیے جاری ہے حیف صد حیف کہ ہر شے پہ جنوں طاری ہے کیا ہمیں اپنے مکانوں میں نہ رہنے دے گی بستیاں دور خلاؤں میں بسانے کی لگن جنگ در جنگ سلگتے ہیں صداؤں کے بدن سبز راتوں کے سیہ خون سے تر ہے دامن آسماں آگ نگلنے پہ ہے مجبور تو پھر ہر دشا برف کی مانند پگھل جائے ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ احساس

پھیل کر پھر شب تاریک ہوئی بحر سیاہ قطرہ قطرہ لب تنہائی سے ٹپکے احساس اور پلکوں کی صلیبوں پہ وہ گزرے ہوئے دن جیسے کھنڈروں کی فصیلوں پہ ٹنگا ہو اتہاس دفن ہے راکھ کے انبار تلے عزم کی لاش جستجو اس کی کرے آج کسے فرصت ہے روشنی مانگ نہ سورج سے نہ ستاروں سے تیرہ و تار مکانوں میں بڑی راحت ...

مزید پڑھیے

صبح کی آمد کے ساتھ

قریب صبح صدائے شکست جاں ابھری لبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخر سکوت جسم لہو پیتے پیتے چونک اٹھا یہ کون شب کی تمازت سے جل گیا آخر کراہتا سا اٹھا کوئی ٹوٹتا پیکر سیاہیوں میں سلگتا ہوا دھواں جیسے جھٹک کے دور ہوئی بستروں سے اکتاہٹ لپٹ گیا ہو کوئی سانپ ناگہاں جیسے عذاب روح مکانوں ...

مزید پڑھیے

بھگوان کرشن

زیست کا ترجماں ہے میرا کرشن یعنی جان جہاں ہے میرا کرشن ہے وہی مالک فنا و بقا والئ دو جہاں ہے میرا کرشن آپ جادہ ہے آپ منزل ہے یعنی منزل نشاں ہے میرا کرشن میری منزل قریب تر کر دی روکش رہبراں ہے میرا کرشن باغ ایماں کو تازگی بخشی نازش گلستاں ہے میرا کرشن میری دنیا سنوار دی اس ...

مزید پڑھیے

یوم جمہور

یوم جمہور تیرے آنے پر ناچ اٹھے ہیں مسرتوں کے پیام ان اجالوں میں ظلمتیں تو نہیں سوچتے ہیں مرے وطن کے عوام جگمگاتا ہے وقت کا چہرہ بے بسوں پر جہان ہنستا ہے اپنے رخ پر نہیں ہے موجۂ نور جھونپڑی کس طرح ہو رشک محل جام جمہوریت تو پیتے ہیں حسرتیں دم جو توڑ دیں گھٹ کر لیکن اس میں نہیں ہے کیف ...

مزید پڑھیے

مہاتما گاندھی

باپو نے ہر انسان کو انساں سمجھا بہبودئ ہر فرد کو ایماں سمجھا انجیل کو قرآن کو اور گیتا کو سینے سے لگایا انہیں یکساں سمجھا تعمیر وطن سے تھی محبت اس کو سچائی کا اپدیش دیا باپو نے تخریب پرستی سے تھی نفرت اس کو پرچار اہنسا کا کیا باپو نے یہ دیش کا تھا ایکتا وادی لیڈر قربانی و ایثار کے ...

مزید پڑھیے

دیوالی سے متعلق

جل رہے ہیں دئے منڈیروں پر ہو رہا ہے کرم اندھیروں پر تم جو بن کر کرن کرن آؤ داغ دل بھی ہنسیں سویروں پر مسکراتی ہوئی چلی آؤ دل سلگتا ہے داغ جلتے ہیں چھنچھناتی ہوئی چلی آؤ آرزوؤں کے باغ جلتے ہیں ہن کی دیوی ہو تم مرے گھر میں روز دیوالی غم زدہ گھر میں ہن لٹاتی ہوئی چلی آؤ آنسوؤں کے چراغ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4533 سے 6203