قومی زبان

لاکھ کچھ نہ ہم کہتے بے زباں رہے ہوتے

لاکھ کچھ نہ ہم کہتے بے زباں رہے ہوتے آپ تو بہ ہر صورت بد گماں رہے ہوتے وہ تو رنگ لے آئی اپنے خون کی گرمی ورنہ سارے قصے میں ہم کہاں رہے ہوتے رات کے بھنور میں ہیں ہم چراغ کی صورت ساتھ ساتھ ہوتے تو کہکشاں رہے ہوتے آج اک حقیقت ہیں سر فروشیاں اپنی ورنہ ہم تباہی کی داستاں رہے ...

مزید پڑھیے

آئنہ کون ہے کچھ پتا تو چلے

آئنہ کون ہے کچھ پتا تو چلے بے خطا کون ہے کچھ پتا تو چلے کس طرف سے یہ پتھر ادھر آئے ہیں آشنا کون ہے کچھ پتا تو چلے بے وفائی کا الزام ہم پر سہی بے وفا کون ہے کچھ پتا تو چلے سب کے چہرے ہیں جیسے لٹا کارواں رہنما کون ہے کچھ پتا تو چلے

مزید پڑھیے

کوئی دانا کوئی دیوانہ ملا

کوئی دانا کوئی دیوانہ ملا شہر میں ہر شخص بیگانہ ملا میں اسے پہچان تو لیتا مگر جب ملا وہ بن کے افسانہ ملا نیم کے پتوں سی کڑوی ہر خوشی دیکھیے مجھ کو یہ نذرانہ ملا شور تھا وہ پیکر پیکار ہے عزم اس کا بھی مریضانہ ملا زندگی کے نام پر مجھ کو خیالؔ ایک زہریلا سیہ خانہ ملا

مزید پڑھیے

دولت حق مجھ کو حاصل ہو گئی ہے

دولت حق مجھ کو حاصل ہو گئی ہے زندگی اب اور مشکل ہو گئی ہے اب نہیں آسان دنیا سے گزرنا اس کی پرچھائیں مقابل ہو گئی ہے لوگ منزل کی طرف لپکے ہیں لیکن بھیڑ میں غفلت بھی شامل ہو گئی ہے ساتھ طوفان حوادث ہے مگر اب زندگی نزدیک ساحل ہو گئی ہے دوسری دنیاؤں کی چاہت میں دیکھو میری دنیا خود ...

مزید پڑھیے

جستجو کے پاؤں اب آرام سا پانے لگے

جستجو کے پاؤں اب آرام سا پانے لگے اب ہمارے پاس بھی کچھ راستے آنے لگے وقت اور حالات پر کیا تبصرہ کیجے کہ جب ایک الجھن دوسری الجھن کو سلجھانے لگے شہر میں جرم و حوادث اس قدر ہیں آج کل اب تو گھر میں بیٹھ کر بھی لوگ گھبرانے لگے دل میں آ بیٹھا ہے دیکھو دوریوں کا دیوتا ہم جماعت کے تصور ...

مزید پڑھیے

زندگانی رنج اور غم کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگانی رنج اور غم کے سوا کچھ بھی نہیں اف کہ ہر دم سوگ و ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں روز و شب اپنے گزر جانا دیار غیر میں داستان عزم محکم کے سوا کچھ بھی نہیں کون دہشت گرد ہے اور کون ہے دہشت زدہ یہ سب اک ابہام پیہم کے سوا کچھ بھی نہیں گونجتی ہے خامشی ہر دم جو میرے چار سو در حقیقت شور ...

مزید پڑھیے

سرد سناٹوں کی سب سرگوشیاں لے جاؤں گا

سرد سناٹوں کی سب سرگوشیاں لے جاؤں گا میں جہاں بھی جاؤں گا دل کی زباں لے جاؤں گا شہر چھوڑوں گا تو روئیں گی ملوں کی چمنیاں دیکھنا اک روز میں سارا دھواں لے جاؤں گا وہ جہاں چاہے چلا جائے یہ اس کا اختیار سوچنا یہ ہے کہ میں خود کو کہاں لے جاؤں گا سطح دریا رقص میں ہے آج مجھ کو دیکھ ...

مزید پڑھیے

دیکھ ان چڑیوں کو چڑیا گھر نہ دیکھ

دیکھ ان چڑیوں کو چڑیا گھر نہ دیکھ لوٹ مت پیچھے کو یوں مڑ کر نہ دیکھ ہاتھیوں کی پیٹھ پر بیٹھا ہے دن شام سے پہلے کوئی منظر نہ دیکھ اپنی دیواروں سے کچھ باہر نکل صرف خالی گھر کے بام و در نہ دیکھ پتھروں کے کرب کو محسوس کر میرے سینے پر رکھا پتھر نہ دیکھ کر گیا سورج سبھی کو بے لباس اب ...

مزید پڑھیے

پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میں

پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میں اک شہر تصور ہے احساس کے ہر پل میں تو مصر کی ملکہ ہے میں یوسف کنعاں ہوں افسوس مگر گم ہیں تفریق کے دلدل میں انسان کی دنیا میں انساں ہے پریشاں کیوں مچھلی تو نہیں ہوتی بے چین کبھی جل میں ہر فکر کے چہرے پر سو زخم ہیں ماضی کے اک لفظ نہیں زندہ آواز ...

مزید پڑھیے

کبھی جو شب کی سیاہی سے ناگہاں گزرے

کبھی جو شب کی سیاہی سے ناگہاں گزرے ہم اہل ظرف ہر اک سوچ پر گراں گزرے نگاہ و دل سے مٹا دیں جو تشنگی کا عذاب وہ آبشار کے دھارے ابھی کہاں گزرے غم آفریں تھا مسلسل سکوت شہر حبیب ہم اس گلی سے مگر پھر بھی شادماں گزرے شکستگی کی طلسمی فضا نئی تو نہیں یہاں تو ایسے کئی دور امتحاں گزرے نظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4532 سے 6203