قومی زبان

جگ ہے مشتاق پیو کے درشن کا

جگ ہے مشتاق پیو کے درشن کا کس کوں نیں احتیاج درپن کا صاف دل ہے جو آرسی مانند نت ہے حیراں جمال روشن کا گرچہ ہونا ہے عیب پوشی جہاں کسب کر اختیار سوزن کا کیوں نہ ہوئے عاشقی میں خوف رقیب ہر سفر میں خطر ہے رہزن کا زہد زاہد ہے خوف محشر سوں تاب نامرد کوں کہاں رن کا خاک ہو یار کی گلی ...

مزید پڑھیے

خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے

خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے ہاتھ بس کاسۂ گدائی ہے بوریا بھی نہیں اسے درکار جس کے تئیں شوق بے ریائی ہے گل سب ہنستے ہیں بزم گلشن میں عشق بلبل مگر ریائی ہے جلد جاتی ہے آسماں اوپر آہ میری عجب ہوائی ہے شمع مینا کے نور سوں ساقی محفل دل میں روشنائی ہے ہر گھڑی دیکھتا ہے درپن کوں شوخ ...

مزید پڑھیے

امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہے

امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہے بجھے دل کو سجی محفل کا در ویران لگتا ہے ہو کوئی ہم سفر ایسا جو دل کو ہم نفس گزرے اسی حسرت پہ ہر لمحہ مجھے قربان لگتا ہے یقیناً ہے خبر میں آج رب کی بے زباں دنیا مگر انسان کل کی فکر کا سامان لگتا ہے فضا میں یوں تکلف ہے ہوا میں یوں ہے ...

مزید پڑھیے

ہر ذرہ چمن زار کی زینت کا سبب ہے

ہر ذرہ چمن زار کی زینت کا سبب ہے محفل میں چمن زار کی ہر شے کا ادب ہے اک عمر بدستور گزر جائے تو بہتر گو دل میں بدستور ٹھہرنے کی طلب ہے کچھ یوں ہے مقدر کی حقیقت کہ جہاں میں ظلمت ہے کہیں دن میں کہیں نور کی شب ہے ہر چیز میں تعمیل خرد کی نہ ہو لیکن ہر چیز پہ اس چیز کا دعویٰ تو عجب ...

مزید پڑھیے

پردوں سے گھر کے راز چھپائے گا کیا کوئی

پردوں سے گھر کے راز چھپائے گا کیا کوئی پھولوں سے گھر کا روپ کھلائے گا کیا کوئی مشکل سے گھر کی بند ہوا پر ہے اختیار باہر ہوا کو راہ دکھائے گا کیا کوئی محنت سے تھک کے چور گناہوں کی بھیڑ کو اچھے برے کا فرق سکھائے گا کیا کوئی بازار اب ہے زیست کی روح رواں مگر آب و ہوا کے دام لگائے گا ...

مزید پڑھیے

بھلا یہ کون ہے میرے ہی اندر مجھ سے رنجش میں

بھلا یہ کون ہے میرے ہی اندر مجھ سے رنجش میں وہ مجھ کو ہی گنوا بیٹھا نہ جانے کس کی خواہش میں سمندر ایک ٹھہرا سا ابھی تک ہے ترے اندر ندی بن کر مرا بہنا تجھے ملنے کی کوشش میں دریچے پر کھڑے ہو کر تجھے بس سوچتے رہنا بہت سے کام باقی ہے بہت تھوڑی سی بارش میں مرا وہ روٹھ کر رونا ترا ہنس ...

مزید پڑھیے

حسن اس شمع رو کا ہے گل رنگ

حسن اس شمع رو کا ہے گل رنگ کیوں نہ بلبل جلے مثال پتنگ خط شب رنگ اس پری رو کا دیکھ آیا ہے آرسی پر زنگ اس کے نازک بدن میں ہوئے نہاں پہنے گر وو صنم قبائے تنگ دیکھ مجنوں نے بس کہا مجھ کوں اس قدر مارتے ہیں طفلاں سنگ ساقیا جام مے سوں کر سرشار مجھ کوں درکار نیں ہے نام و ننگ غیر گردش کے ...

مزید پڑھیے

جب پری رو حجاب کرتے ہیں

جب پری رو حجاب کرتے ہیں دل کے درپن کوں آب کرتے ہیں گردش چشم کا دکھا یک دور ہم کوں مست شراب کرتے ہیں آتش عشق کی اگن سوں جلا عاشقاں کوں کباب کرتے ہیں تاب دکھلا جمال روشن کا آرسی غرق آب کرتے ہیں بیت ابرو پہ تل سوں کاجل کے نقطۂ انتخاب کرتے ہیں عرق گل رخاں کو دیکھ عشاق میل عطر ...

مزید پڑھیے

سینہ صافی سوں مثل درپن کر

سینہ صافی سوں مثل درپن کر شمع فانوس دل کی روشن کر یاد کر کے خیال گل رو کا دشت دل میں بہار گلشن کر گر نہیں سبحہ ہاتھ میں ہر وقت دانۂ دم سوں پیو کی سمرن کر گرچہ حائل ہے پردۂ غفلت دیدۂ دل کوں کھول روزن کر عیب پوشی کوں خلق کی داؤدؔ چشم سیتی پلک کوں سوزن کر

مزید پڑھیے

مست ہوں مست ہوں خراب خراب

مست ہوں مست ہوں خراب خراب ساقیا ساقیا شراب شراب آتش عشق سوں تری جل جل دل ہوا دل ہوا کباب کباب دور مکھ سوں عرق نہ کر گل رو دے مجھے دے مجھے گلاب گلاب کہہ اپس چشم با حیا کوں صنم رفع کر رفع کر حجاب حجاب دیکھ چھپتا ہے ابر میں خورشید دور کر دور کر نقاب نقاب منتظر دل ہے یار کے خط ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4507 سے 6203