امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہے

امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہے
بجھے دل کو سجی محفل کا در ویران لگتا ہے


ہو کوئی ہم سفر ایسا جو دل کو ہم نفس گزرے
اسی حسرت پہ ہر لمحہ مجھے قربان لگتا ہے


یقیناً ہے خبر میں آج رب کی بے زباں دنیا
مگر انسان کل کی فکر کا سامان لگتا ہے


فضا میں یوں تکلف ہے ہوا میں یوں ہے بیداری
کہ دل ایوان ہستی میں فقط مہمان لگتا ہے


کھلی کھڑکی سے دانشؔ امن کے اخبار روزانہ
یہ منظر اب کسی فردوس کا عنوان لگتا ہے