قومی زبان

عشق میں آبرو خراب ہوئی

عشق میں آبرو خراب ہوئی زندگی سر بسر عذاب ہوئی میرے محبوب تیری خاموشی میری ہر بات کا جواب ہوئی تھی نہ آسودگی مقدر میں مہربانی تو بے حساب ہوئی

مزید پڑھیے

بیوہ کی جوانی

بیچاری کے آرام کی صورت ہی کہاں ہے بیوہ کی جوانی بھی عجب آفت جاں ہے ممکن ہے کہ پیری میں سکوں پا سکے ورنہ جب تک وہ جواں ہے غم شوہر بھی جواں ہے ممتا سے ہے مجبور کہ اولاد کی خاطر جیتی ہے مگر جینا بہ ہر رنگ گراں ہے خوں گشتگیٔ دل کی دوا ہو نہیں سکتی کیا خاک تھمے خوں کہ جو آنکھوں سے رواں ...

مزید پڑھیے

مجازؔ کی موت پر

اے بے نیاز شوق فراواں کہاں ہے تو اے نگہت شمیم بہاراں کہاں ہے تو اے باعث فروغ گلستاں کہاں ہے تو اے رونق وجود خیاباں کہاں ہے تو پتھرا گئی ہیں آنکھیں ترے انتظار میں کچھ تو بتا کہ اے مہ تاباں کہاں ہے تو وہ تیرے شوق نغمہ سرائی کو کیا ہوا اے یار نغمہ ریز و غزل خواں کہاں ہے تو تیرے بغیر ...

مزید پڑھیے

لالچ کا انجام

ترکستان کے ایک سوداگر کی درھم کی ایک تھیلی راستہ میں کہیں گرپڑی۔ اس نے گاؤں میں منادی کردی کہ تھیلی جس کوملی ہو واپس کردے۔ تھیلی میں جس قدر درھم ہوں اس کے نصف انعام کا وہ حقدار ہوگا۔ اس تھیلی میں دوسودرہم تھے۔ یہ تھیلی کسی جہاز کے ملاّح کو ملی تھی منادی سن کر وہ اس آدمی کے پاس ...

مزید پڑھیے

ان کے ملنے کا بظاہر تو یقیں کوئی نہیں

ان کے ملنے کا بظاہر تو یقیں کوئی نہیں وہ اگر چاہیں کوئی شک ہے نہیں کوئی نہیں اے جنوں تیری عنایت سے ہے تنہائی نصیب اور تو سارے بیاباں میں کہیں کوئی نہیں مطمئن جب تھے تو ہمت کا تھا ساتھ اپنے ہجوم ڈر جہاں ہونے لگا ہم کو وہیں کوئی نہیں عشق کی راہوں میں آیا ہے اک ایسا بھی مقام صرف اک ...

مزید پڑھیے

بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکا

بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکا تری نظر میں مرا پیار پیار ہو نہ سکا زمانہ زندگی کا سازگار ہو نہ سکا جئے ضرور مگر اعتبار ہو نہ سکا ترا وقار مکمل وقار ہو نہ سکا کسی سے تجھ کو زمانے میں پیار ہو نہ سکا زمانہ سارا ہوا ہے تمہارا محرم راز نہ ہو سکا تو مرا اعتبار ہو نہ سکا حیات گزری ...

مزید پڑھیے

دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے

دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے لطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلے ہائے انداز محبت بھی عجب تھا ان کا کر رہے تھے وہ جفا مجھ پہ وفا سے پہلے کس قدر تیری دعاؤں میں اثر تھا اے دوست ہو گیا ہوں میں صحت یاب دوا سے پہلے کیا بتاؤں تجھے ہمدم کہ تھا ابتر کتنا حال میرا ترے دامن کی ہوا سے ...

مزید پڑھیے

بھوک میں دبے بچپن

شریر میں کوئی تڑپ سی ہوگی یا کوئی عادت سی پڑی ہوگی کئی دنو کی کئی چیزو کی بھوک تو ہوگی کوئی مقصد ہوگا یا یوں ہی زندگی ننگے پاؤں کی دوڑ ہوگی دھوپ کو پردوں سے واپس بھیج دیا امیروں نے وو جا کر کئی آنکھوں میں اندھیرے بھر رہی ہوگی کچھ ہے نہیں ٹکرانے کو کیا اسی کارن مایوسی میں لپٹی ...

مزید پڑھیے

تمہاری آنکھیں

تمہاری آنکھیں تم وہیں تو بستے ہو ایک جسم کو دنیا نے تمہارا نام دیا تمہیں پایا تمہاری آنکھوں میں ہے میں نے ان دو پلکوں نے چھوا ہے مجھے تمہاری انگلیوں کے جادوئی اسپرش سی میرے چہرے کی نرم گلابی گلیوں میں کھوئی میری زلفوں میں الجھی ہوئی ریشم سے تر بہ تر یہ آنکھیں کبھی ہونٹھ بن کر ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر

درد گر بے حد ہوا تو حوصلے بڑھ جائیں گے تم زخم کریدو گے ہم اور نکھر جائیں گے تیری رنجشوں نے سانس دی بے چینیوں نے نیند ہمیں خوش نما ماحول اور سکون کاٹ کھائیں گے خود کو گلے لگا کر رونا بھی ہے حسین اپنے آپ سے لڑیں گے خود کی گود میں سو جائیں گے یہ نا سمجھنا کے یہ رفتار ہے تم سے تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4504 سے 6203