قومی زبان

آئینے میں دیکھ کے چہرہ بے شک میں حیران ہوا

آئینے میں دیکھ کے چہرہ بے شک میں حیران ہوا دل کی دنیا لوٹ گیا ہے جو دل کا مہمان ہوا تو نے اپنا چین گنوایا میری نیند اڑا دی ہے دل کے نازک رشتے میں تو دونوں کا نقصان ہوا تیرے سانسوں کی خوشبو سے مہک رہی ہے تنہائی تیرا ایک تبسم میرے جینے کا سامان ہوا کہاں گئے وہ جن کے دم سے کھیتوں ...

مزید پڑھیے

اداسی کے منظر مکانوں میں ہیں

اداسی کے منظر مکانوں میں ہیں اندھیرے ابھی آشیانوں میں ہیں محبت کو موسم نے آواز دی دلوں کی پتنگیں اڑانوں میں ہیں زباں والے بھی کاش سمجھیں کبھی وہ دکھ درد جو بے زبانوں میں ہیں پرندوں کی پرواز قائم رہے کئی خواب شامل اڑانوں میں ہیں کہاں منزلیں گم پتہ ہی نہیں نگاہیں مگر آسمانوں ...

مزید پڑھیے

دل نے چاہا بہت اور ملا کچھ نہیں

دل نے چاہا بہت اور ملا کچھ نہیں زندگی حسرتوں کے سوا کچھ نہیں عشق نے ہم کو سوغات میں کیا دیا زخم ایسے کہ جن کی دوا کچھ نہیں پڑھ کے دیکھی کتابیں محبت کی سب آنسوؤں کے علاوہ ملا کچھ نہیں ہر خوشی کا مزا غم کی نسبت سے ہے غم نہیں ہے اگر تو مزا کچھ نہیں زندگی مجھ سے اب تک تو کیوں دور ...

مزید پڑھیے

دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر

دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر میکدے میں خدا کی بات نہ کر میں تو بے مہریوں کا عادی ہوں مجھ سے مہر و وفا کی بات نہ کر شوق بے مدعا کا مارا ہوں شوق بے مدعا کی بات نہ کر وہ تو مدت ہوئی کہ ٹوٹ گیا میرے دست دعا کی بات نہ کر جو نہیں اختیار میں میرے اس بت بے وفا کی بات نہ کر عشق کی انتہا کو ...

مزید پڑھیے

ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں اپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں تیری معصومی کے صدقے میری محرومی کی خیر اے کہ تجھ کو صورت آرام جاں سمجھا تھا میں دشمن دل دشمن دیں دشمن ہوش و حواس ہائے کس نا مہرباں کو مہرباں سمجھا تھا میں دوست کا در آ گیا تو خود بخود جھکنے لگی جس ...

مزید پڑھیے

اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکے

اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکے تیرے کیا ہوتے اپنے ہو نہ سکے زندگی اور وہ بھی مانگے کی ہم ندامت کا داغ دھو نہ سکے خود فریبی کی انتہا یہ ہے دل سی بیکار شے بھی کھو نہ سکے نا خدا کے بغیر کچھ نہ بنا اپنی کشتی بھی خود ڈبو نہ سکے

مزید پڑھیے

مری بے قراری مری آہ و زاری یہ وحشت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

مری بے قراری مری آہ و زاری یہ وحشت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے پریشاں تو رہنا مگر کچھ نہ کہنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے غم زندگی نالۂ صبح گاہی مرے شیخ صاحب کی واہی تباہی اگر ان کے ہوتے وجود الٰہی حقیقت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے تری خود پسندی مری وضع داری تری بے نیازی مری دوست ...

مزید پڑھیے

دل بے مدعا کا مدعا کیا

دل بے مدعا کا مدعا کیا اسے یکساں روا کیا ناروا کیا جنہیں ہر سانس بھی اک مرحلہ ہے انہیں راس آئے دنیا کی ہوا کیا کوئی سنتا نہیں ہے مفلسوں کی غریبوں کا پیمبر کیا خدا کیا نگاہ دوست میں جچتا نہیں جب تو پھر میں کیا مرا ذہن رسا کیا بڑا اچھا کیا آج آ گئے تم چلو چھوڑو نہ آئے کل ہوا ...

مزید پڑھیے

غم کو وجہ حیات کہتے ہیں

غم کو وجہ حیات کہتے ہیں آپ بھی خوب بات کہتے ہیں آپ سے ہے وہ یا ہمیں سے ہے ہم جسے کائنات کہتے ہیں کور ذوقی کی انتہا یہ ہے لوگ دن کو بھی رات کہتے ہیں یہ غلط کیا ہے تجربے کو اگر حاصل حادثات کہتے ہیں بچ نکلنا فریب ہستی سے بس اسی کو نجات کہتے ہیں جس محبت پہ ہے مدار حیات اس کو بھی بے ...

مزید پڑھیے

نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیں

نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیں کہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیں وہ جن پر فخر ہے فرزانگی کو نکتہ دانی کو تری محفل میں ایسے چند دیوانے بھی آتے ہیں ادب کرتا ہوں مسجد کا وہاں ہر روز جاتا ہوں کہ اس کی راہ میں دو چار میخانے بھی آتے ہیں ہمارے میکدے میں مے بھی ہے ایماں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4503 سے 6203