قومی زبان

کیا وہیں ملو گے تم

کچھ دنوں سے میں جب بھی آئینے میں اپنی ہلکی سفید لٹیں دیکھتی ہوں ایک جانا پہچانا راستہ نظر آتا ہے جس کے ایک کنارے تم چل رہے ہو دوسرے پہ میں چپ چاپ اجنبی بن کر تمہارا دھندلا سا چہرہ وہ کالی فریم والے چشمے کانوں کے پاس اگی ہوئی کچھ ایسی ہی سفید لکیریں میں تمہیں غور سے دیکھ نہیں پا ...

مزید پڑھیے

اشک میرے اپنے

جا رہی ہوں میں کر رہی ہوں تمہارا گھر تمہارے حوالے خالی ہو جائے گی ہر وو جگہ جو میرے اشکوں سے بھری ہے ابھی لے جاؤں گی ہر اشک اپنے ساتھ سمیٹ کر کچھ گملوں کے پھول پہ اوس سے چمک رہے ہوں گے کچھ سج دھج کے بیٹھے ہوں گے دہلیز پہ زرد تھے جو کچھ جانے اڑ کے کہاں گرے ہوں گے کچھ مٹی کے اندر بیج بن ...

مزید پڑھیے

کاش

اس خاموش قلعے کی سخت لوہے سی دیواریں ہر طرف سفید غمگین پردہ وہ اپنی عالی شان کرسی پر بیٹھی کوئی حساب جوڑ رہی ہے اس کا پھیکا سپاٹ بوجھل چہرہ جیسے بھیتر کا ایک روپ اس کے اوپری روپ رنگ کو کھا چکا ہو اچانک دروازے کی دستک دبی ہوئی سسکیوں کا شور اونچے دروازے کو کھولتے ہی اس کی بھاؤ ...

مزید پڑھیے

پورا چاند

پورا چاند پورا چاند نہیں دیا تم نے مجھے میری یہ نادان شکایت یاد ہے تمہیں چھوٹے سے گھر کی ٹوٹی ہوئی چھت سے چاند کو ٹکڑوں میں دیکھا کرتی تھی تم مجھے دیکھتے رہتے میں چھت میں کچھ ڈھونڈھا کرتی تھی ہاتھ بڑھا کر چھو لوں جی کرتا تھا تمہارے ہاتھ میں پروئی انگلیاں چھوٹا نہیں کرتی تھی کتنی ...

مزید پڑھیے

ایک اور شرابی شام

چلو آج ایک اور کوشش ہوگی پھر ایک شام ڈوب جائے گی شراب میں زندگی کے اندھیرے سرد ٹکڑے جام میں گھل کر ہونٹھوں کے حوالے ہوں گے زباں پہ تھرکتی تشنگی دھیرے دھیرے حلق تک پھیل جائے گی خاموشی کا لباس پہنے کونے میں قید تنہائی رہا ہوگی اور نس نس میں دوڑ کر رقص کرے گی میرے لہو میں بہہ رہے اس ...

مزید پڑھیے

بڑھاپے کی چوٹی

عمر اور راستے کٹتے چلے گئے ابھی ابھی سانسیں سنبھلی تھی نہ جانے کب حوصلے بھی سنبھلتے چلے گئے شروعاتی یہ راستے سیدھے سرل صاف ہوا کرتے تھے اونچائی پہ بڑھتے ہی پتھریلے ہوئے کانٹوں سے گرست ہاں کبھی کوئی جھرنا مل جاتا تھا پیڑ بھی چھاؤں لے کر میری مدد کو آتے تھے وہ جھرنے وہ چھاؤں مگر ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہے ابتلا کے سوا

زندگی کیا ہے ابتلا کے سوا شکوۂ درد لا دوا کے سوا تیری دنیا میں کیا نہیں ملتا اک دل درد آشنا کے سوا چارۂ‌ درد زندگی کیا ہے آہ جانکاہ‌ و التجا کے سوا کچھ نہیں اختیار میں اپنے بندگی کے سوا دعا کے سوا میں نے ہر بات ان سے کہہ ڈالی لیکن اک حرف مدعا کے سوا میری امداد سب نے ...

مزید پڑھیے

زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھی

زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھی ظلمت بخت بہ ہر رنگ و نظر ہے کہ جو تھی عشق برباد کن راحت دل ہے کہ جو تھا شوخیٔ دوست بہ انداز دگر ہے کہ جو تھی آج بھی کوئی نہیں پوچھتا اہل دل کو آج بھی ذلت ارباب نظر ہے کہ جو تھی خود پرستی کا رواج آج بھی ہے عام کہ تھا راستی آج بھی محتاج اثر ہے کہ جو ...

مزید پڑھیے

اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے آ جائے گی اس دن بھی ...

مزید پڑھیے

ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے شب فراق ہے شمع امید لے آؤ کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے کہاں ہو میکدے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4505 سے 6203