کیا وہیں ملو گے تم
کچھ دنوں سے میں جب بھی آئینے میں اپنی ہلکی سفید لٹیں دیکھتی ہوں ایک جانا پہچانا راستہ نظر آتا ہے جس کے ایک کنارے تم چل رہے ہو دوسرے پہ میں چپ چاپ اجنبی بن کر تمہارا دھندلا سا چہرہ وہ کالی فریم والے چشمے کانوں کے پاس اگی ہوئی کچھ ایسی ہی سفید لکیریں میں تمہیں غور سے دیکھ نہیں پا ...