قومی زبان

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میں وہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا دیکھا ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو جاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو the human called an angel, it's you and only you for whom I give my life, it's you and only you مطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیں مطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو Being clever, I communicate my cravings clearly still unaware and innocent, it's you and only you آتا ہے بعد ظلم ...

مزید پڑھیے

بہت مشکل ہے ترک آرزو ربط آشنا ہو کر

بہت مشکل ہے ترک آرزو ربط آشنا ہو کر گزر جا وادیٔ پر خار سے باد صبا ہو کر لگا دو گے تمنا کے سفینے کو کنارے سے معاذ اللہ دعوی خدائی نا خدا ہو کر ہر اک ہو سلسلہ رنگیں گناہوں کے سلاسل کا نہیں آسان دنیا سے گزرنا پارسا ہو کر مری پنہائی علم و خبر کی انتہا یہ ہے کہ اک قطرے سے ناواقف ہوں ...

مزید پڑھیے

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو یہ مے ہے مے اسے اوروں کو بھی پلا کے پیو غم جہاں کو غم زیست کو بھلا کے پیو حسین گیت محبت کے گنگنا کے پیو چھٹے نہ دامن طاعت بھی وقت مے نوشی پیو تو سجدۂ الفت میں سر جھکا کے پیو بجھے بجھے سے ہوں ارماں تو کیا فروغ نشاط جو سو گئے ہیں ستارے انہیں ...

مزید پڑھیے

راز یہ مجھ پہ آشکارا ہے

راز یہ مجھ پہ آشکارا ہے عشق شبنم نہیں شرارا ہے اک نگاہ کرم پھر اس کے بعد عمر بھر کا ستم گوارا ہے رقص میں ہیں جو ساغر و مینا کس کی نظروں کا یہ اشارا ہے ایسی منزل پہ آ گیا ہوں جہاں ترے غم کا ہی اک سہارا ہے لوٹ آئے ہیں یار کے در سے وقت نے جب ہمیں پکارا ہے دل نہ ٹوٹے تو ذرۂ ...

مزید پڑھیے

قید غم حیات سے اہل جہاں مفر نہیں

قید غم حیات سے اہل جہاں مفر نہیں ایسی ملی ہے شام غم جس کی کوئی سحر نہیں ہے وہ سفر جو عشق کو جانب دوست لے چلے ورنہ سفر کے واسطے کون سی رہ گزر نہیں اہل خرد کو چاہیے دل کے نگر میں آ بسیں دل سا حسین و خوش نما اور کوئی نگر نہیں تیرے کرم پہ ہے یقیں گرچہ یہ جانتا ہوں میں نالہ ہے میرا ...

مزید پڑھیے

تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے

تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے مجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہے میری چاہتوں کو نہ پوچھئے جو ملا طلب سے سوا ملا مری داستاں ہی عجیب ہے مرا مسئلہ کوئی اور ہے یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا نہ سمجھ سکے مرا مدعا مجھے پیار ہے کسی اور سے مرا دل ربا کوئی اور ہے مرا ...

مزید پڑھیے

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں تھا عیاں وہ راز دل جس کو نہاں سمجھا تھا میں سن رہا ہوں اپنی خاموشی کا چرچا کو بہ کو تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں عارضی سا عکس تھا اک التفات دوست کا جس کو نادانی سے عیش جاوداں سمجھا تھا میں تم نے آنکھیں پھیر لیں مجھ سے تو یہ مجھ ...

مزید پڑھیے

گلوں پہ خاک محن کے سوا کچھ اور نہیں

گلوں پہ خاک محن کے سوا کچھ اور نہیں چمن میں یاد چمن کے سوا کچھ اور نہیں کہاں کی منزل رنگیں سحر تو ہونے دو ہمارے خواب تھکن کے سوا کچھ اور نہیں یہ شام غربت دل ہے یہاں چراغ کہاں خیال صبح وطن کے سوا کچھ اور نہیں نگاہ شوق مسلسل اسی کو چھیڑے جا جبیں پہ جس کی شکن کے سوا کچھ اور ...

مزید پڑھیے

جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی

جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہی اپنی منزل کی طرف پاؤں بڑھاؤ تو سہی زندگی وہ جو حریف غم ایام رہے دل شکستہ ہے تو کیا ساز اٹھاؤ تو سہی جاگ اٹھے گی یہ سوئی ہوئی دنیا لیکن پہلے خوابیدہ تمنا کو جگاؤ تو سہی پھول ہی پھول ہیں کہتے ہو جنہیں تم کانٹے میری دنیاے جنوں میں کبھی آؤ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4496 سے 6203