خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میں وہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا دیکھا ...