قومی زبان

امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں

امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں پھر بھی تو اس کو پانے کی خواہش مری نہیں بے وجہ گل رخوں سے مری بے رخی کہاں میرے جنون شوق کے قابل پری نہیں تسکیں ملے بھی دیدۂ حیراں کو کس طرح شیشہ گری نہیں کہیں جلوہ گری نہیں بد رنگ سی بہار ہے فصل بہار میں بشاش دل نہیں ہے طبیعت ہری نہیں لگتا ہے آج ...

مزید پڑھیے

زعم کا ہی تو عارضہ ہے مجھے

زعم کا ہی تو عارضہ ہے مجھے میرا میں ہی تو کھا گیا ہے مجھے آتش زیر پا ٹھہرنے نہ دے اب تو منزل بھی راستہ ہے مجھے درد تو کم نہیں مگر اس نے خوگر ضبط کر دیا ہے مجھے خود غرض بے وفا حقیر و فقیر اس نے کیا کیا نہیں کہا ہے مجھے میں طلب گار تھا مسرت کا دفتر رنج و غم ملا ہے مجھے میں نے اشعار ...

مزید پڑھیے

افسوس بنی ہی نہیں پہچان ابھی تک

افسوس بنی ہی نہیں پہچان ابھی تک ہر اہل نظر مجھ سے ہے انجان ابھی تک صدیوں کے تغیر سے بنی صورت انساں انسان نہیں ہے مگر انسان ابھی تک الہام سے ابہام سے ایہام سے چھوٹے کتنے ہیں خیالات پریشان ابھی تک کتنے ہی کھلے فہم و فراست کے دریچے ہیں قید جہالت میں ہم انسان ابھی تک ہیں دیر و حرم ...

مزید پڑھیے

خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں حرم میں سرنگوں کچھ قابل فی النار بیٹھے ہیں گھروں میں ساتھ بیٹھے ہیں سر بازار بیٹھے ہیں نقاب اپنوں کا اوڑھے آج کل اغیار بیٹھے ہیں محبت کی نظر میں جیت لی ہے ہم نے وہ بازی زمانے کی نظر میں ہم کہ جس کو ہار بیٹھے ہیں خطا ہو جائے ہم سے جو کوئی تو ...

مزید پڑھیے

پر لطف سکوں بخش ہوائیں بھی بہت تھیں

پر لطف سکوں بخش ہوائیں بھی بہت تھیں گلشن میں تعصب کی وبائیں بھی بہت تھیں خود میں نے ہی رکھا نہ خیال اپنا کبھی بھی غیروں کی کچھ اپنوں کی جفائیں بھی بہت تھیں صورت پہ اجالے تھے اگر شمس و قمر کے زلفوں کی سیاہی میں گھٹائیں بھی بہت تھیں تھی عہد جوانی میں محبت ہی محبت ناکردہ گناہوں ...

مزید پڑھیے

میں بزم کی متحیر سماع کر دوں کیا

میں بزم کی متحیر سماع کر دوں کیا غزل کی صنف میں کچھ اختراع کر دوں کیا بغیر اس کے بھی زندہ ہوں اور مزے میں ہوں بچھڑنے والے کو یہ اطلاع کر دوں کیا مجھے پسند نہیں ازدحام لوگوں کا یہ منکشف میں سر اجتماع کر دوں کیا مجھے تو تم نے ہی برباد کر دیا لیکن تمہارے حق میں تمہاری دفاع کر دوں ...

مزید پڑھیے

بلانا اور نہ جانا چاہتا ہوں

بلانا اور نہ جانا چاہتا ہوں مراسم بھی نبھانا چاہتا ہوں تری قربت سے کچھ لمحے چرا کر میں اپنے پاس آنا چاہتا ہوں کہاں یہ طے نہیں کر پایا لیکن کہیں میں بھاگ جانا چاہتا ہوں کسی دن گردش ایام کو بھی میں انگلی پر نچانا چاہتا ہوں ضرورت تو نہیں تو ہے ضروری تجھے اپنا بنانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

سرکاری اور غیر سرکاری دو عیدیں

ریڈیو نے دس بجے شب کے خبر دی عید کی عالموں نے رات بھر اس نیوز کی تردید کی ریڈیو کہتا تھا سن لو کل ہماری عید ہے اور عالم کہتے تھے یہ غیر شرعی عید ہے دو دھڑوں میں بٹ گئے تھے ملک کے سارے عوام اس طرف سب مقتدی تھے اس طرف سارے امام بیٹا کہتا تھا کہ کل شیطان روزہ رکھے گا باپ بولا تیرا ...

مزید پڑھیے

کرکٹ اور مشاعرہ

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے مشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے وہاں جو لوگ کھلاڑی ہیں وہ یہاں شاعر یہاں جو صدر نشیں ہے وہاں ہے امپائر وہاں پہ شرط کہ ہو زور بازوئے محمود یہاں یہ قید کہ ہو لحن حضرت داؤد وہاں تمدن مشرق کی موت کا غم ہے یہاں ادب کے جنازہ پہ شور ماتم ہے وہاں ریاض ...

مزید پڑھیے

نہ مرا مکاں ہی بدل گیا نہ ترا پتہ کوئی اور ہے

نہ مرا مکاں ہی بدل گیا نہ ترا پتہ کوئی اور ہے مری راہ پھر بھی ہے مختلف ترا راستہ کوئی اور ہے پس مرگ خاک ہوئے بدن وہ کفن میں ہوں کہ ہوں بے کفن نہ مری لحد کوئی اور ہے نہ تری چتا کوئی اور ہے وہ جو مہر بہر نکاح تھا وہ دلہن کا مجھ سے مزاح تھا یہ تو گھر پہنچ کے پتہ چلا مری اہلیہ کوئی اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4462 سے 6203