قومی زبان

طرحی غزل

مشاعرے کے لیے قید طرح کی کیا ہے یہ اک طرح کی مشقت ہے شاعری کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ میں طرح میں غزل لکھوں انہیں خبر ہی نہیں میری پالیسی کیا ہے غزل جو طرح میں لکھی ہے کس طرح لکھی یہ پوچھنے کی کسی کو اتھارٹی کیا ہے غزل کی شکل بدل دی ہے آپریشن سے سخن وری ہے اگر یہ تو سرجری کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

عجب اخبار لکھا جا رہا ہے

عجب اخبار لکھا جا رہا ہے کہ منشا وار لکھا جا رہا ہے لکھی ہے حال دل میں ہائے ہوز یہ حال زار لکھا جا رہا ہے کہیں گولی لکھا ہے اور کہیں مار یہ گولی مار لکھا جا رہا ہے میں رشتہ دار ہوں اس کا سو مجھ کو سرشتہ دار لکھا جا رہا ہے مزاج یار برہم ہے کہ اس کی مجاز یار لکھا جا رہا ہے سمندر ...

مزید پڑھیے

وہ شخص کبھی جس نے مرا گھر نہیں دیکھا

وہ شخص کبھی جس نے مرا گھر نہیں دیکھا اس شخص کو میں نے کبھی گھر پر نہیں دیکھا کیا دیکھو گے حال دل برباد کہ تم نے کرفیو میں مرے شہر کا منظر نہیں دیکھا جاں دینے کو پہنچے تھے سبھی تیری گلی میں بھاگے تو کسی نے بھی پلٹ کر نہیں دیکھا داڑھی ترے چہرے پہ نہیں ہے تو عجب کیا یاروں نے ترے پیٹ ...

مزید پڑھیے

غالبؔ کو برا کیوں کہو

کل ایک ناقد غالبؔ نے مجھ سے یہ پوچھا کہ قدر غالبؔ مرحوم کا سبب کیا ہے مجھے بتاؤ کہ دیوان حضرت غالبؔ کلام پاک ہے انجیل ہے کہ گیتا ہے سنا ہے شہر کراچی میں ایک صاحب ہیں کلام ان کا بھی غالبؔ سے ملتا جلتا ہے ہمارا دوست طفیلی بھی ہے بڑا شاعر اگرچہ ایک بڑے آدمی کا چمچہ ہے تو پھر یہ ...

مزید پڑھیے

اٹھی نہیں ہے شہر سے رسم وفا ابھی

اٹھی نہیں ہے شہر سے رسم وفا ابھی بزم سخن کے صدر ہیں ہاشمؔ رضا ابھی صاحب یہ چاہتے ہیں میں ہر حکم پر کہوں بہتر درست خوب مناسب بجا ابھی اس در پہ مجھ کو دیکھ کے درباں نے یہ کہا ٹھہرو کہ ہونے والی ہی ہے فاتحا ابھی اس طرح میں غزل کوئی دشوار تو نہیں دو چار لفظ لکھ دئیے پھر لکھ دیا ...

مزید پڑھیے

میری مٹی میں جب نہ تھا پتھر

میری مٹی میں جب نہ تھا پتھر کیسے کہہ دوں کہ ہے خدا پتھر شعلۂ عشق کا اثر توبہ موم جیسا پگھل گیا پتھر جب بھی بزم خرد میں آیا میں عقل پر میری پڑ گیا پتھر گل بچھاؤں میں تیرے قدموں میں میری راہوں میں تو بچھا پتھر راہ حق میں یقین تھا ہم پر صرف برسیں گے اینٹ یا پتھر لد گیا جب شجر ...

مزید پڑھیے

ہے نگاہوں میں کوہ طور میاں

ہے نگاہوں میں کوہ طور میاں میں نہیں ہوں خدا سے دور میاں وہ بھی تقریر کر رہے ہیں جنہیں بولنے کا نہیں شعور میاں لے نہ ڈوبے تری عبادت کو زہد و تقویٰ کا یہ غرور میاں میرے منہ میں نہیں زباں ایسی بولتی جو ہے جی حضور میاں رہ کے دلی میں بھی یہ لگتا ہے اب بھی دلی بہت ہے دور میاں ایک ...

مزید پڑھیے

ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں

ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں نادان ہیں مثبت میں نفی ڈھونڈ رہے ہیں گل ڈھونڈ رہے ہیں نہ کلی ڈھونڈ رہے ہیں گلشن میں بس اک شاخ ہری ڈھونڈ رہے ہیں اس یگ میں کہاں ہم بھی ولی ڈھونڈ رہے ہیں انساں میں صفات بشری ڈھونڈ رہے ہیں بادل کی سیاہی میں کرن جیسی چمکتی ہر غم میں چھپی ہم بھی ...

مزید پڑھیے

عقل کتنی شعور کتنا ہے

عقل کتنی شعور کتنا ہے پھر بھی تجھ کو غرور کتنا ہے ہر کوئی تجھ سے دور کتنا ہے اس میں تیرا قصور کتنا ہے میٹھی میٹھی تمہاری باتوں کے پس پردہ فتور کتنا ہے ہم کو توفیق ہی نہیں ہوتی گھر ترا ورنہ دور کتنا ہے یہ تو اہل جنوں ہی جانتے ہیں ہوش تحت شعور کتنا ہے سطر در سطر پڑھنے والے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4461 سے 6203